یوم جشن آزادی کی آمد آمد:محمد محسن علی اس کہاوت کا نمونہ بن گیا کہ” جہاں چاہو بسیرا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 20:04:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 20:04:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 20:04:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 20:02:16 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:44:10 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:26:21 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:23:41 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:23:41 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:21:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:21:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 19:18:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

یوم جشن آزادی کی آمد آمد:محمد محسن علی اس کہاوت کا نمونہ بن گیا کہ” جہاں چاہو بسیرا کرلو“

تندور پرکام کرنیوالے محسن نے بی اے کے امتحان میں پہلی پوزیشن لیکر پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے،جشن آزادی پرملک میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے کوشش کرنی چاہیے،تاکہ بہت سارے محسن علی جیسے نوجوانوں کوتعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،ملک میں محسن علی کی طرح کے بہت سارے نوجوان ہیں،جن کو حکومت نظر انداز کررہی ہے۔رپورٹ

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11اگست2016ء):یوم جشن آزادی کے موقع پرملک میں تعلیمی نظام کی بہتری کیلئے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ بہت سارے محسن علی جیسے نوجوانوں کوتعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،ملک میں محسن علی کی طرح کے بہت سارے نوجوان ہیں،جن کو حکومت نظر انداز کررہی ہے،لیکن یہ نوجوان بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت کسی بھی مشکل کا سامنا کرتے ہوئے اپنے کام کو مکمل کرکے دم لیتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق محمد محسن علی کون ہے؟جو اس کہاوت کا نمونہ بن گیا کہ” جہاں چاہو بسیرا کرلو“۔اس کا تعارف یوں ہے جیسا کہ یوم جشن آزادی کی آمد آمد ہے۔حکومت نے بھی سرکاری سطح پر جشن آزادی کو بھرپور انداز میں منانے کیلئے اقدامات شروع کردیے ہیں،پاکستان کے عوام جن میں بچے،نوجوان،خواتین اور بزرگ بھی آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کیلئے بیتاب ہیں۔

14اگست کے موقع پراگرہم ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو کچھ ایسے لوگ بھی ملیں گے۔جنہوں نے ہر طرح کی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ہمت نہیں ہاری بلکہ پاکستان کیلئے فخر کا باعث بن گئے۔ان میں سے ایک نوجوان شخص کانام محمدمحسن علی ہے۔جس کا حافظ آباد کے ایک شریف اور غریب خاندان سے تعلق ہے۔محسن علی اس کہاوت کا نمونہ ہے کہ” جہاں چاہو بسیرا کرلو“۔

علی نے یہ شہرت تب حاصل کی جب وہ ایک تندور پر کام کرتا تھا۔اس تندور کامالک اس کا بھائی تھا۔لیکن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 19:26:21 :وقت اشاعت