سانحہ کوئٹہ حکومت اور وزارت داخلہ کی مکمل ناکامی ہے،سیدخورشیدشاہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:50:14 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:49:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:49:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:49:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:44:55 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:44:55 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:41:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:41:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2017 - 00:00:07 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 12:31:25 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:36:19 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:38:41 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:38:43 وقت اشاعت: 22/01/2017 - 15:20:32 کوئٹہ کی مزید خبریں

سانحہ کوئٹہ حکومت اور وزارت داخلہ کی مکمل ناکامی ہے،سیدخورشیدشاہ

وزارت داخلہ نے تنازع کھڑا کیا،ہمارا موقف عوام تک نہیں آنے دیا گیا، سانحے پر حکومت کے ساتھ ہیں، جب تک انسان زندہ ہے وہ سیاست کرتے رہیں گے ، انسانی جانوں کے ضیاع کا ازالہ نہیں ہوسکتا، آج یہ حکومت ہے کل کوئی اور آئے گی،پاکستان ہمارا ملک ہے ،اﷲ اسے قائم و دائم رکھے،اپوزیشن لیڈر , حکومت کا رویہ درست نہیں، ہم خوفزدہ ہیں کہ اسٹیٹ کمزور نہ ہو، حکومت کو انا پرستی سے ہٹنا چاہیے،ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو ایسے سانحات رونمانہ ہوتے، اعتزاز حسن کی میڈیا سے بات چیت

کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ حکومت اور وزارت داخلہ کی مکمل ناکامی ہے۔ وزارت داخلہ کو چاہیے کہ وہ ان واقعات کے بعد سوچے کہ ان کا سدباب کیسے ہوسکتاہے ۔ آیا اس ناکامی پر وزارت داخلہ شرمسار ہے بھی یا نہیں اور اس شرمساری کا وہ کس طرح ازالہ کرسکتی ہے۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے سانحہ کوئٹہ کے بعدحکومت کو تعاون کا یقین دلایا ہے اور ہم نے وزیراعظم کی تقریر کی تائید و حمایت کی ۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز کوئٹہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر سینٹ میں پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف اعتزاز حسن ، ڈاکٹرنفسیہ شاہ، سینیٹر روبینہ خالد اور سندھ کابینہ کے دو وزراء ناصر شاہ اور ممتاز جھکرانی اور پیپلز پارٹی بلوچستان سابقہ صدر صادق عمرانی بھی موجود تھے ۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ یقینا ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی نظر آتی ہے، پارلیمنٹ میں بھی اس پر بات ہوئی۔

پارلیمنٹرین صرف بحث کرسکتے ہیں اور تجاوز دے سکتے ہیں۔ ہم نے کل بھی قومی اسمبلی میں کہا کہ نیشنل ایکشن پلان بالکل ناکام ہوگیا ہے۔ حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ اگر اس وقت صحیح معنوں میں پورے جذبے کے ساتھ اس پلان پر کام کرتی تو یہ نہیں ہوتا۔ نیشنل ایکشن پلان ہم سب نے ملکر بنایا ہے اور تمام جماعتیں اس پر متفق ہیں۔ یقین سے کہتا ہوں کہ اگر ایکشن پلان پر مکمل عمل ہوتا تو ایسے سانحات آئندہ رونمانہیں ہوں گے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے حکومت کے سامنے یہ تمام باتیں رکھیں لیکن بد قسمتی سے اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ ، انہوں نے بہتر نکات اٹھائے مگر متعلقہ وزارت جو وزارت داخلہ ہے نے تنازع کھڑا کیا۔ وزیر داخلہ کی تقریر سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہوئی جبکہ اپوزیشن کی تقاریر کو نہیں دکھایا گیا۔ ہمارا موقف عوام تک نہیں آنے دیا گیا۔ہم اس سانحے پر حکومت کے ساتھ ہے کیونکہ سیاست ہوتی رہتی ے۔

جب تک انسان زندہ ہے وہ سیاست کرتے رہیں گے مگر انسانی جانوں کے ضیاع کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ آج یہ حکومت ہے کل کوئی اور آئے گی اورحکومتیں آتی رہیں گی پاکستان ہمارا ملک ہے اﷲ کریں قائم و دائم رہیں۔ مگر ان سارے معاملات پر حکومت کا جو رویہ ہے وہ درست نہیں۔ حکومت کمزور ہوجائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر ہم خوفزدہ ہے کہ اسٹیٹ کمزور نہ ہو کیونکہ جب اسٹیٹ کمزور ہو تو ادارے کمزور ہوجاتے ہیں اور ادارے کمزور ہو تو اس کا نقصان عوام کو ہوتا ہے۔

حکومت کو اس پر سوچنا چاہیے اور انا پرستی سے ہٹنا چاہیے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم چھ چھ گھنٹے طویل اجلاس کررہے ہیں یہ تو بندر والی مثال ہوگئی۔ بندر کو شیر نے ایک دن کیلئے جنگل کا بادشاہ بنایا تو بکری بندر کے پاس شکایات لے کر آئی کہ بھیڑیا اس کا بچہ لے کر گیا۔ بندر نے ادھر ادھر چھلانگیں لگانا شروع کردیں۔ جب بکری نے پوچھا کہ یہ کیا کررہے ہیں تو بندر نے کہا کہ آپ نہیں دیکھ رہی کہ میں کوشش کررہا ہوں۔

یہی مثال وزارت داخلہ کی ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم طویل اجلاس ہیں ہم بہت کچھ کررہے ہیں اور پھر بھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آرہا۔خورشید شاہ نے کہا کہ کوئٹہ سانحہ وزارت داخلہ کی اس لیے بھی ناکامی ہے کہ وزیر داخلہ نے اتنے بڑے معاملے پر پہلے روز کوئی بیان دیا اورنہ ٹی وی پر آئے۔ یہاں کے متاثرہ لوگوں کو ترجیح ہی نہیں دی۔ وزیراعظم آیا ، وزیراعلیٰ آئے سب آئے مگر انہوں نے یہاں آنے کی زحمت تک نہیں کی۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 18:44:55 :وقت اشاعت