قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:49:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:49:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:44:55 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:44:55 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:41:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:41:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:31:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:29:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:29:13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا

فوٹو شیئر کرنے پہ بھی سالوں کی قید والا قانون کیسے جمہوری ہو سکتا ہے؟ اپوزیشن کی مخالفت , سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا ٗنفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ جمعرات کو بل وفاقی بل وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان میں پیش کیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے بل کی مخالفت کی تاہم اسے سینیٹ کی ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔

بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سید نوید قمر نے کہا کہ بل میں شامل بعض سزائیں نا مناسب ہیں۔سید نوید قمر نے کہاکہ فوٹو شیئر کرنے پہ بھی سالوں کی قید والا قانون کیسے جمہوری ہو سکتا ہے؟بچوں کے لئے جو سزائیں تجویز کی گئیں وہ بھی ناقابل قبول ہیں علی محمد خان نے کہاکہ بل میں مقدس شخصیات اور تحفظ رسالتؐ سے متعلق کوئی شق شامل نہیں نفیسہ شاہ نے اسے ڈریکونئین قانون قرار دیدیا اور کہا کہ وزیر مملکت ان کے دور میں اس بل کی مخالفت کرتی تھیں۔

پی ٹی آئی کے علی محمد خان نے کہا کہ یوتھ کو اس قانون کے ذریعے مفلوج کیا جا رہا ہے ٗبہت سے قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ایم کیو ایم کے علی رضا عابدی نے کہا کہ ان کی ویب سائٹ بند کر دی گئی تاہم کالعدم تنظیمیں اپنے نظریات کے پرچار کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہی ہیں ٗانہیں 8 شقوں پہ اعتراض ہے۔جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اﷲ نے بھی بعض شقوں کی مخالفت کی ۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدر مملکت ممنون حسین کے پاس بھیجا جائیگا جن کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل میں نافذ العمل ہوجائے گا۔سائبر کرائم کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل ہوسکے گی ٗبل کے متن کے مطابق سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا ٗنفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی ٗدھوکہ دہی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 18:41:45 :وقت اشاعت