وفاقی وزیر داخلہ کا بلوچستان نہ آنا اس بات کا مظہر ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ،نیشنل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:45:52 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:45:52 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:44:55 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:41:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:32:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:29:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:25:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:25:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:22:51 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:22:51 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:22:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وفاقی وزیر داخلہ کا بلوچستان نہ آنا اس بات کا مظہر ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ،نیشنل ایکشن پلان پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا،اس لئے دھماکے ہورہے ہیں ،دھماکے پردھماکہ خفیہ اداروں کی ناکامی ہے ، وزیراعظم کی آستینوں میں سانپ چھپے ہیں ، وزارت داخلہ دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے سنجید اقدامات کرے ،اپوزیشن جماعتیں ہر وقت حکومت کیساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت , ہمیں خاص مائنڈ سیٹ کو شکست دینے کیلئے تربیتی کیمپس کاخاتمہ کرناہوگا ،نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد وزارت داخلہ کاکام ہے ، سانحہ کوئٹہ کے شہداء کے بچوں کو تعلیمی سہولیات اوران کی اہلخانہ کی مالی معاونت کے لئے بار ایسوسی ایشن ایک ٹرسٹ قائم کرے ، اعتزاز احسن

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہاہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کا سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے بعد بلوچستان نہ آنا اس بات کا مظہر ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ،نیشنل ایکشن پلان کے 20نکات ہیں جن پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا اسی لئے تو دھماکے ہورہے ہیں ،دھماکے کے بعد دھماکہ انٹیلی جنس اداروں کی ناکامی ہے ،میاں نوازشریف کے آستینوں میں سانپ ہیں ، وزارت داخلہ ان واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدگی کامظاہرہ کرے تو اپوزیشن جماعتیں ہر وقت حکومت کیساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے ۔

وہ جمعرات کو بلوچستان ہائی کورٹ میں سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹر اعترازا حسن ،سینیٹر ربینہ خالد ،سینیٹر نفیسہ شاہ ،مرکزی کمیٹی کے رکن میر محمدصادق عمرانی ،صوبائی وزیر ڈاکٹرحامد خان اچکزئی ،ساجد ترین ایڈووکیٹ اور دیگر شخصیات موجود تھے ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کاکہناتھاکہ قومی ایکشن پلان مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے کیونکہ اس کے نکات پر عملدرآمد کی بجائے وزارت داخلہ بندر کی طرح اچھل کود میں مصروف ہے ،اسی لئے تو دھماکے ہورہے ہیں ،8اگست کو کوئٹہ میں اندوہناک واقعہ ہوا ،انہوں نے کہاکہ واقعہ انٹیلی جنس اداروں اورسیکورٹی فورسز کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے اگر نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کو ممکن بنایاجاتا تو آج کوئٹہ میں حالات اس قدر خراب نہ ہوتے ،انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ اپنے اعمال پر شرم سار ہے اسی لئے وہ عوام کاسامنا نہیں کرسکتی اس وقت وزارت داخلہ کام کرنے کی بجائے بندر کی طرح چلانگیں لگا رہی ہے جو مایوس کن ہے ،انہوں نے کہاکہ وزارت داخلہ ان واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدگی کامظاہرہ کرے تو اپوزیشن جماعتیں ہر وقت حکومت کیساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے ،ہم نے ہمیشہ امن وامان سے متعلق حکومت سے تعاون کیاہے انہوں نے کہاکہ اگر صورتحال کے متعلق سنجیدگی کامظاہرہ کیاجاتا تو آج یہ حالت نہ ہوتی انہوں نے کہاکہ ہم نے ان کے کہنے پر ایکشن پلان ،نیکٹا بنایابلکہ دہشت گردوں کیخلاف بھی کارروائیاں کی مگر اس وقت نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد نظر نہیں آرہا اسی لئے تو آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد کوئٹہ میں قومی سانحہ ہوا ،ایسے حالات میں جب قومی جنگ جاری ہے ،پوائنٹ سکورنگ نہیں کرناچاہئے بلکہ متحد ہو کر حالات کا سب کو مقابلہ کرناہوگا انہوں نے کہاکہ حکومتی کمزوری سے فرق نہیں پڑتا تاہم ریاست کمزور ہوجائے تویہ کسی کے مفاد میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت بدنیتی کامظاہرہ کررہی ہے کیونکہ گزشتہ روز مجھ سمیت اپوزیشن اراکین کی تقاریر سرکاری ٹی وی پر نشر نہیں کی گئی جبکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ وزیر داخلہ نے اس نازک صورتحال میں کل نیا تنازعہ کھڑا کیا انہوں نے کہاکہ ملک بھر کی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق تھی اس لئے اس پرعملدرآمد وقت کی اہم ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 18:29:13 :وقت اشاعت