عمران خان نے 2002میں اپنی پارٹی کی مقبولیت اورممکنہ 100 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کیاتھا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:33:14 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:33:14 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:33:14 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:32:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:32:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:27:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 18:07:20 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:58:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:58:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:58:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:56:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

عمران خان نے 2002میں اپنی پارٹی کی مقبولیت اورممکنہ 100 نشستیں جیتنے کا دعویٰ کیاتھا ، ان کو بتادیاتھاکہ ان کی پارٹی غیر مقبول ہے، صرف 5نشستیں مل سکتی ہیں ، عمران خان نے مجھ سے کئی ملاقاتیں کیں ، وہ ہمیشہ صحیح وقت پر غلط سیاسی فیصلے کرتاہے، سولو فلائٹ کے باعث ہمیشہ ان کو نقصان ہوتا ہے، نوا زشریف کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں،پانامہ لیکس سکینڈل کے بعد ان پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں‘ میرے دور حکومت میں ملکی معیشت مضبوط تھی،میرے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات بے بنیاد ہیں ، مناسب وقت پر پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کرونگا

آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اورسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے انکشاف کیا ہے کہ 2002ء کے انتخا بات کے موقع پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی پارٹی کو عوام میں اتنی مقبولیت حاصل ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی 100 نشستیں جیت جائیں گے جس پر میں نے عمران خان کو کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس اور سیاسی رہنماؤں کی رائے کے مطابق تحریک انصاف کی اتنی مقبولیت نہیں ہے اور آپ کی جماعت 5 نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔

وزیر اعظم نوا زشریف کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں ہے تاہم پانامہ لیکس کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد ان پر کرپشن کے الزامات عائد ہیں‘ میرے دور حکومت میں ملکی معیشت مضبوط تھی۔ جمعرات کوایک نجی ٹی وی چینل کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا کہ عمران خان کے ان کے ساتھ 2002ء کے انتخابات سے قبل تعلقات بہت اچھے تھے ۔

میں عمران خان کو پسند کرتا تھا اور اسی وجہ سے اس سے کئی ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک ایماندار سیاستدان ہیں تاہم وہ ہمیشہ صحیح وقت پر غلط سیاسی فیصلے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر عمران خان نے ملاقات کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ وہ عوام میں بہت مقبول ہیں اور ووٹرز کی عمر 21 سال سے کم کر کے 18 سال کرنے کا سارا فائدہ ان کی جماعت کو پہنچے گا کیونکہ نوجوان نسل ان کو بہت پسند کرتی ہے اور ان کی پارٹی قومی اسمبلی کی 100 نشستیں حاصل کر لے گی جس پر میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ کو میرا مشورہ ہے کہ (ق) لیگ اور میرے دیگر سیاسی اتحادیوں سے اتحاد کر لیں او راس کے نتیجے میں آپ کو 10نشستیں دیدیں گے جس پر عمران خان نے میری بات نہیں مانی ۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس اور سیاسی اتحادیوں سے ملنے والی معلومات کے مطابق عمران خان صرف 3 سے 5 نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں تھے اور میں نے انہیں اپنی طرف سے 10 نشستیں دینے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ سیاسی اتحادیوں سے مل کر بتا دیں کہ کس کس علاقے میں ان کے امیدوار مضبوط ہیں لیکن عمران خان نے ضد کی او رمیری بات نہیں مانی اور اس کو میانوالی سے صرف اپنی ایک ایک نشست ملی۔

ایک اور سوال پر سابق صدر نے کہاکہ عمران خان سولو فلائٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے بروقت وہ سیاسی فیصلے نہیں کر پاتا او راس کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خا ن میں لوگوں کو اپنے قریب لانے کی کشش موجود ہے اور میں اس کو اسی وجہ سے پسند کرتا ہوں۔ وہ حب الوطن بھی ہے اور کرپٹ بھی نہیں۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ اپنے سیاسی مخالف وزیر اعظم نواز شریف کو بھی حب الوطن سمجھتے ہیں کہ نہیں جس پر سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہاکہ نواز شریف کی حب الوطنی پر کوئی شبہ نہیں ہے تاہم ان پر حال ہی میں پانامہ سکینڈل کی وجہ سے کرپشن کے الزامات عائد ہیں۔

ایک ا ور سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ مناسب وقت پر پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کریں گے۔ میرے خلاف تمام مقدمات جھوٹے اور بے بنیادی بنائے گئے ہیں اور میں14 مرتبہ عدالتوں میں پیش ہوا ہوں جب ضروری سمجھا تو وطن واپس جاؤں گا۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانا پڑے گا اور اس کے لئے پاک فوج نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو آپس میں روابط بڑھانے چاہئیں تاکہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا قبل از وقت پتہ چلایا جا سکے۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف (ن) لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں یہ کہتے ہیں کہ اگر ماضی کی میری غلطیوں کا حساب لیاجائے تو انہیں چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کا ایک ایسا غیر جانبدار کمیشن بنائیں جس میں میں بھی حقائق لے آؤں گا وہ بھی الزامات کا پلندہ لے آئیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ مجھ پر بے بنیاد الزام تراشی نہ کی جائے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے جب 2002ء میں میانوالی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تھا تو اس وقت مسلم لیگ (ن) نے وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر ان کیخلاف پارٹی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔

11/08/2016 - 18:27:12 :وقت اشاعت