قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، ممبران نیشنل بینک کے صدر کیخلاف پھٹ پڑے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:59:59 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:56:33 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:56:33 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:49:24 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:48:17 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:48:17 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:46:28 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:46:27 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:45:06 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:45:05 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:41:26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس، ممبران نیشنل بینک کے صدر کیخلاف پھٹ پڑے

نیشنل بینک میں مارشل لا لگا ہوا ہے کوئی قرضہ یا نوکری نہیں چاہیئے , اجلاس میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر بارے ریفنگ کوسٹ اینڈ منیجمنٹ اکاؤنٹس ترمیمی بل2015ء اور بے تامی ٹرانزیکشن بل2016ء موخر

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں ممبران کمیٹی نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر کے خلاف پھٹ پڑے۔ نیشنل بینک میں مارشل لا لگا ہوا ہے کوئی قرضہ یا نوکری نہیں چاہیئے۔ ہمارے حلقوں کے لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں، 150سے زائد اراکین اسمبلی کو صدر کے خلاف شکایات ہیں لگتا ہے ان کو ہماری زبان سمجھ نہیں آ رہی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئر مین کمیٹی قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا اس موقع پر جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی شیر اکبر خان کی جانب سے پیش کئے گئے بل سود کے خاتمہ کا بل2015ء کا جائزہ لیا گیا ۔ سیکرٹری خزانہ وقار مسعود نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فیڈرل شریعت کورٹ میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔

دسمبر1990ء میں سپریم کورٹ نے ربا سے متعلق فیصلہ دیا تھا تو اس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس حوالے سے کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔ اس کمیٹی میں اس معاہدہ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر شیر اکبر خان نے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 17:48:17 :وقت اشاعت