سیکورٹی گارڈز کی آڑ میں’را‘اور طالبان کے ایجنٹ بھرتی ہو رہے ہیں، چیف جسٹس آف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:19:26 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:19:26 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:19:26 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:16:36 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:16:36 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:16:36 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:14:56 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:14:56 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:13:15 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:13:15 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 17:04:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سیکورٹی گارڈز کی آڑ میں’را‘اور طالبان کے ایجنٹ بھرتی ہو رہے ہیں، چیف جسٹس آف پاکستان

پولیس کی ذمہ داری ہے وہ سیکیورٹی گارڈز کی بھرتی پر نظر رکھے، معاملات پر کسی قسم کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،جسٹس انور ظہیر جمالی , ٹارگٹ کلنگ ،قتل کے 1500 سے زائد ملزمان شامل ہیں ،غیر قانونی اسلحہ کے جرم میں1500سے زائد ، دھماکہ خیز مواد رکھنے پر 450ملزمان گرفتار کئے گئے، رپورٹ , نئے سی سی ٹی وی کیمروں کیلئے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 10ہزار نئے کیمروں کے ٹینڈڑز پر وقت لگے گا، جسٹس امیر ہانی مسلم کے استفسار پر چیف سیکرٹری سندھ کا جواب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی گارڈز کی آڑ میں ’را‘اور’طالبان‘ کے ایجنٹ بھرتی ہو رہے ہیں،پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکیورٹی گارڈز کی بھرتی پر نظر رکھے ،ان معاملات پر کسی قسم کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ،سیکیورٹی انتظامات بہتر ہوتے تو کوئٹہ میں اتنا نقصان نہ ہوتا ،کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں مگر اداروں نے ذمہ داری ادا نہیں کی اس لیے ہمیں معاملے کو دیکھنا پڑا۔

جمعرات کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم لارجر بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی ۔حکومت سندھ کی جانب سے سپریم کورٹ میں تین رپورٹیں پیش کی گئیں ۔سماعت کے دوران حکومت سندھ نے امن و امان کے قیام کے لیے کئے گئے اقدامات سے متعلق 5 سالہ کارکردگی کی رپورٹ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے کیس میں نظرثانی کی درخواست جمع کرائی۔

امن و امان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے ستمبر 2013 سے اب تک 17 ہزار سے زائد آپریشنز کیے، جن میں 80 ہزار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے 15 سو سے زائد ملزمان شامل ہیں جب کہ غیر قانونی اسلحہ کے جرم میں1500 سے زائد اور دھماکا خیز مواد رکھنے پر 450 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ پولیس کوسیاسی عناصرسے پاک کرنے کے لیے موثراقدمات کیے گئے ہیں، خلاف ضابطہ ترقی پانے والوں اور ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کو واپس بھیجا گیا، سنگین نوعیت کے105کیس فوجی عدالتوں کو بھیجے جاچکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 17:16:36 :وقت اشاعت