ٹیکسٹائل یونٹس کی بیرون ملک منتقلی کی بات درست نہیں ہے ‘ خرم دستگیر خان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:39:41 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:37:16 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:36:52 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:36:52 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:31:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:31:13 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:26:20 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:25:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:24:59 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:24:59 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 16:24:59
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

ٹیکسٹائل یونٹس کی بیرون ملک منتقلی کی بات درست نہیں ہے ‘ خرم دستگیر خان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی کوبتایاگیا ہے کہ ٹیکسٹائل یونٹس کی بیرون ملک منتقلی کی بات درست نہیں ہے ‘ ہینڈی کرافٹ سے متعلقہ ایسوسی ایشنز کو فنڈز دینے کیلئے تیار ہیں ‘اراکین تعاون کریں جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وقفہ سوالات کے دوران وزارت تجارت اور وزارت خارجہ امور کے اعلیٰ افسران کی عدم موجودگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا عندیہ دیاہے ۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران خرم دستگیر نے کہا کہ ہمارا ہدف غیر قانونی سمگلنگ کی روک تھام اور قانونی برآمدات کے حامل تاجروں کو سہولیات کی فراہمی دینا ہے۔ خرم دستگیر نے بتایا کہ ٹیکسٹائل یونٹس کی بیرون ملک منتقلی کی بات درست نہیں ہے تاہم بعض سرمایہ کار اداروں نے بیرون ملک اپنے یونٹس قائم کئے ہیں تاہم ان کے لئے سرمایہ پاکستان سے نہیں لے جایا گیا۔

تمام انڈسٹریل فیڈر/یونٹس پر لوڈشیڈنگ صفر ہے۔ مارچ 2016ء سے انڈسٹری کو بلا تعطل گیس کی فراہمی جاری ہے۔ اس پر انڈسٹری سے متعلقہ کاروباری لوگوں نے حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان اقدامات سے برآمدات کے حوالے سے بہتر اعداد و شمار سامنے آنے کی توقع ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صرف 17 کمپنیوں کو بیرون ملک سرمایہ کاری کی اجازت دی گئی۔ پرویز ملک کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ عالمی کساد بازاری اور عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی ایک عنصر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ ایسی پراڈکٹس کاٹن کلاتھ کی برآمد میں 1.53 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم اس کی قیمت کو دیکھا جائے تو کمی آئی ہے۔ نیٹ ویئر کی برآمدات میں 15.3 فیصد اضافہ تاہم قیمت میں 1.45 فیصد کمی ہے۔ یہی رجحان بیڈ ویئر ٹاولز میں بھی ہے۔ صرف وویمن گارمنٹس میں 3.81 فیصد برآمدات اور 8.5 فیصد قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہم ویلیو ایڈیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سیلز ٹیکس زیرو کرنے کا ایکسپورٹر کا بڑا مطالبہ منظور کرلیا ہے۔ مشینری کی درآمد پر کوئی ڈیوٹی نہیں۔ وزیر تجارت خرم دستگیر نے بتایا کہ ایک ہنر ایک نگر کے تحت 28 ہزار ہنرمندوں کو تربیت دی گئی ہے۔ہینڈی کرافٹ کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کو 2013-14ء میں 708 ملین ‘ 2014-15 میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ 3.88 تک پہنچی ہیں۔ جرمنی ‘ یو کے‘ آسٹریلیا میں بھی اس میں اضافہ ہوا ہے۔

آنے والے دنوں میں ای کامرس کے آنے سے ہینڈی کرافٹ کے شعبہ میں بہتری آئے گی۔ شہریار آفریدی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے چاروں صوبوں میں ہینڈی کرافٹ کے اداروں کو فنڈنگ کی ہے۔ اگر کوئی ایسی ایسوسی ایشنز ہیں تو ان کے بارے میں آگاہ کریں۔ ہمارے پاس وسائل ہیں۔ خواتین کو تربیت دینے والی ایسوسی ایشن لے کر ہمارے پاس آئیں۔ حکومت فنڈز فراہم کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ 938 آئٹم پاکستان کی حساس فہرست میں ہیں۔ افغانستان کی 850 اشیاء کی لسٹ ہے۔ پاکستان افغانستان دونوں ساؤتھ ایشیا فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے رکن ہیں۔ 16 اشیاء پر ایم ایف این بنیاد پر محصول کی شرح صفر ہے۔ حساس فہرست ساری سارک ریجن کے ممالک کے ساتھ ہے۔ گزشتہ سال 39 لاکھ ڈالر ہینڈی کرافٹ برآمد کیں۔ امریکہ پہلے‘ جرمنی دوسرے‘ یو کے تیسرے نمبر پر ہے۔

ان ممالک میں کھپت زیادہ ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ نے بتایا کہ وزارت کے زیر انتظام کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے تاہم بیرون ملک چھ پاکستانی ایمبیسی سکولوں کو مالی سال 2015-16ء میں 74 لاکھ روپے امداد دی گئی۔ انجینئر خرم دستگیر نے بتایا کہ وفاقی حکومت خشک دودھ اور گوشت درآمد نہیں کرتی ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ارادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2015-16ء میں فرانس‘ پولینڈ‘ ترکی اور یوکرائن سے 20252

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 16:31:13 :وقت اشاعت