قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:55:41 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:37:56 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:35:29 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:35:29 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:31:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:31:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:30:29 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:29:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ جمعرات کو بل وفاقی بل وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان میں پیش کیاقومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدر مملکت ممنون حسین کے پاس بھیجا جائیگا جن کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل میں نافذ العمل ہوجائے گا۔

سائبر کرائم کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل ہوسکے گی ‘بل کے متن کے مطابق سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا ‘نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی ‘دھوکہ دہی پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا ‘بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا ‘انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال سزا ہوگی۔

بل میں کہاگیا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔بل میں کہاگیاکہ موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔موبائل فون سموں کی غیر قانونی فروخت پر 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ بل کے مطابق انٹرنیٹ مہیا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 15:34:45 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان