قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود سائبرکرائمز بل کثرت رائے سے منظور
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:34:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:31:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:31:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:30:29 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:29:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:27:31 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:26:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:14:11 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 15:09:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود سائبرکرائمز بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء )قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعتوں کی بنیادی انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق متعدد شقوں کی شدید مخالفت کے باوجود سائبرکرائمز بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ،بل کے مندرجات میں لکھا گیا ہے پاکستانی کہیں بھی رہے جرم سرزد ہوا تو سزا ملے گی ۔ سائبر کرائمز بل الیکٹرانک جرائم کے تدارک کا ایکٹ 2016 کہلائے گا اور یہ فوری طور پر نافذ ہو گا ۔

یہ قانون ہر پاکستانی شہری پر لاگو ہو گا ۔ پاکستان میں فی الوقت رہائش پذیر ہر شخص پر اس قانون کا اطلاق ہو گا ۔ تاہم قانون کا اطلاق پاکستانی شہری کے بیرون ملک سرزد ہونے والے جرم پر بھی ہو گا، بیرون ملک سے کسی پاکستانی شخص، جائیداد، معلوماتی نظام یا ڈیٹا کو متاثر کرنے والے پر بھی قانون کا اطلاق ہو گا۔ بل میں 51 شقیں شامل کی گئی ہیں ۔

وزیر مملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا کہ اسمبلی میں تقاریر کے بعد کس نے کہاں سے شاباش حاصل کی گئی باہر سے اس بل پر ڈکٹیشن لی گئی تھی۔سائبر کرائم بل سے خود کشیاں کم ہونگی،این جی اوز یہ چاہتی ہی نہیں کہ پاکستان میں سائبر کرائم بل منظور ہو،تین ترامیم قومی اسمبلی اور 18ترامیم سینیٹ نے دیں اور یہ صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے،کئی مہینوں کی مشاورت اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس بل پر عوامی مطمع نظر سنا گیا اور اس ایوان میں اس بل پر رپورٹ پیش کی گئی،اس بل کے ذریعے توازن پیدا کرنا چاہتے تھے،نام نہاد این جی اوز نے اعتراضات شروع کئے گئے۔

یہ بل حکومت کا بل نہیں بلکہ پارلیمان کا بل اپوزیشن کی ترامیم کے ساتھ بن گیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں سائبر کرائم بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل پر اپوزیشن نے شدید مخالفت کی ،اپوزیشن کی جانب سے شیریں مزاری ،نوید قمر، عمران ظفر لغاری سمیت عبدالوسیم اور صاحبزادہ یعقوب نے اظہار خیال کیا ،بل پر بحث کرتے ہوئے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اب بھی اس بل کی 5 سے 6 شقوں پر ہمارے خدشات ہیں ، موجودہ شکل میں سائبر کرائم بل کی حمایت نہیں کریں گے ، سائبرکرائم بل کا مزید جائزہ لیا جائے تاکہ متفقہ طور پر منظور ہو سکے ۔

ایم کیو ایم کے رکن عبدالوسیم نے بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں ہم سائبر کرائم بل کو مسترد کرتے ہیں ۔ پی پی کے عمران ظفر لغاری کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم بل سے اظہار رائے ختم ہو جائے گی ، نوجوان ساری رات انٹرنیٹ پر بیٹھ کر ریسرچ کرتے ہیں، سائبر کرائم بل کے ذریعے ہماری سوشل ایکٹویٹی پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔سائبر کرائم پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس بل پر ہماری کچھ ترامیم کو شامل کیا گیا اور آج بھی کچھ شقوں پر اعتراض ہے،اور ہم نے اس پر حکومت سے تعاون بھی کیا ہے۔

ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے کہا کہ سائبر کرائم بل پر کا براہ راست نشانہ نوجوان ہونگے ان میں اس حوالے سے شعور آگہی دی جائے،تمام سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں اور اس پر دوبارہ اصلاح کی ضرورت ہے اور اگر حکومت طاقت کے ذریعے اس بل کو منظور کرنا چاہتی ہے توحکومت کے پاس طاقت ہے،ایم کیو ایم اس بل کو مسترد کرتی ہے۔نعیمہ کشور خان نے کہا کہ اس بل کے منطور ہونے سے سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کا خاتمہ ہوگا،سینیٹ میں اس بل میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کی گئیں اور قومی اسمبلی میں اس پر اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے،ترکی میں سوشل میڈیا کے ذریعے بغاوت کو کچلا گیا مگر پاکستان

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 15:30:29 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان