کراچی بد امنی کیس :
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 14:00:04 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:52:44 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:51:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:51:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:49:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:49:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:45:38 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:45:37 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:43:57 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:42:56 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:41:49
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کراچی بد امنی کیس :

سکیورٹی گارڈ زکی آڑ میں”را“ اور ”طالبان“کے ایجنٹ بھرتی ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست۔2016ء)چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد چاہتے ہیں لیکن اداروں نے ذمہ داری ادا نہیں کی اس لئے ہمیں معاملے کو دیکھنا پڑا۔جمعرات کے روز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران حکومت سندھ نے امن و امان کے قیام کے لئے کئے گئے اقدامات سے متعلق 5 سالہ کارکردگی کی رپورٹ اور سی سی ٹی وی کیمروں کے کیس میں نظرثانی کی درخواست جمع کرائی۔

امن و امان سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور رینجرز نے ستمبر 2013 سے اب تک 17 ہزار سے زائد آپریشنز کئے، جن میں 80 ہزار ملزمان کو گرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل کے 15 سو سے زائد ملزمان شامل ہیں جبکہ غیر قانونی اسلحہ کے جرم میں1500 سے زائد اور دھماکہ خیز مواد رکھنے پر 450 ملزمان گرفتار کئے گئے۔ پولیس کوسیاسی عناصرسے پاک کرنے کے لئے موثراقدمات کئے گئے، خلاف ضابطہ ترقی پانے والوں اور ڈیپوٹیشن پر آئے افسران کو واپس بھیجا گیا، سنگین نوعیت کے105کیس فوجی عدالتوں کو بھیجے جاچکے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ میں 10 لاکھ سے زائد افغان باشندے موجود ہیں جن پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق استفسار کیا تو چیف سیکرٹری سندھ نے بتایا کہ نئے کیمروں کے لیے 10ارب روپے مختص کیے گئے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 13:49:47 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان