نیپال: گزشتہ برس کے زلزلوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 14:07:54 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 14:07:54 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 14:07:54 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 14:06:44 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:50:50 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:43:57 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:43:57 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:41:49 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:41:49 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:40:39 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:40:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

نیپال: گزشتہ برس کے زلزلوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں

قدرتی آفت کے باعث پانچ لاکھ خواتین اور نوجوان لڑکیاں بے گھر ہوئی تھیں اور دو ہزار خواتین بیوہ ہو گئی

کھٹمنڈو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست۔2016ء)گزشتہ برس نیپال میں آنے والے دو مختلف زلزلوں میں خواتین بڑی تعداد میں متاثر ہوئی تھیں۔ اس قدرتی آفت کے باعث پانچ لاکھ خواتین اور نوجوان لڑکیاں بے گھر ہوئی تھیں اور دو ہزار خواتین بیوہ ہو گئی تھیں۔'ویمن فار ہیومن رائٹس‘ قدرتی آفات کے بعد فراہم کی جانے والی امداد اور بحالی کے پروگراموں میں بے سہارا خواتین کو خصوصی توجہ دینے کے لیے کوششیں کر رہا ہے ایک اندازے کے مطابق زلزلے کے باعث نو لاکھ سے زیادہ گھر تباہ ہوئے تھے ان میں سے ایک چوتھائی گھروں کی سربراہ خواتین تھیں۔

تھامسن روئٹرز فاوٴنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق نیپال کا سن 2015 میں منظور کیا گیا آئین خواتین کے خلاف عدم مساوات کو روکتا ہے اور جائیداد کی ملکیت کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ تاہم سماجی رویے ابھی تک خواتین کو یہ حقوق دینے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔غیر سرکاری تنظیم ’ویمن فار ہیومن رائٹس‘ کی بانی للی تھاپا نے تھامسن روئٹرز فاوٴنڈیشن کو بتایا،” نیپال میں خواتین اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے باعث زلزلوں جیسی قدرتی آفات میں سب سے زیادہ متاثرخواتین ہوتی ہیں۔

“خواتین اپنے مسائل مناسب طریقے سے متعلقہ حکام تک نہیں پہنچا پائی تھیں اسی باعث وہ مختلف خطرات کا شکار ہو گئیں للی کے مطابق خواتین اپنے مسائل مناسب طریقے سے متعلقہ حکام تک نہیں پہنچا پائی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 13:43:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان