سائبر کرائم بل 2016 قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:42:56 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:41:49 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:40:38 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:38:22 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:36:20 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:32:31 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 13:30:22 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 12:59:20 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 12:38:45 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 12:13:01 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 12:04:00
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سائبر کرائم بل 2016 قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا

سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل ہوسکے گی۔سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی۔دھوکہ دہی پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال سزا ہوگی۔بل کے مندرجات

اسلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 11 اگست۔2016ء) سائبر کرائم بل 2016 قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔بل وفاقی بل وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان میں پیش کیا۔اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی نے بل کی مخالفت کی، تاہم اسے سینیٹ کی ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدر مملکت ممنون حسین کے پاس بھیجا جائے گا، جن کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل میں نافذ العمل ہوجائے گا۔سائبر کرائم کی تحقیقات کے لیے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل ہوسکے گی۔سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔

نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی۔دھوکہ دہی پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال سزا ہوگی۔انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔موبائل فون سموں کی غیر قانونی فروخت پر 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا۔سائبرکرائم قانون کا اطلاق پاکستان سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر بھی ہوگا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے لائسنس ہولڈر کے خلاف کارروائی پی ٹی اے قانون کے مطابق ہوگی۔

سائبر کرائم قانون کا اطلاق پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پر نہیں ہوگا، جبکہ پیمرا لائسنس کے حامل ٹی وی اور ریڈیو چینلز اس بل کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔عالمی سطح پرمعلومات کے تبادلے کے لیے عدالت سے اجازت لی جائی گی اور دوسرے ممالک سے تعاون بھی طلب کیا جاسکے گا۔سیکیورٹی ایجنسیز کی مداخلت کی روک تھام کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

بل میں 21 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر پاکستان پینل کوڈ کی 30 دفعات لاگو ہوسکیں گی۔متعلقہ حکام اس بل پر عملدرآمد کے حوالے سے سال میں 2 مرتبہ پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے اپریل 2015 میں متنازع انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کی منظوری دے کر بل کو جون 2015 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

بعدازاں رواں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 13:32:31 :وقت اشاعت