سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ باعث عوام پر صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ‘ایسے میں پورے ملک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 23:01:03 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 23:01:03 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:59:03 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:59:03 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:57:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:57:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:50:36 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:49:26 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:48:05 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:47:07 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:46:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 23/01/2017 - 00:00:07 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 12:31:25 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:36:19 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:38:41 وقت اشاعت: 23/01/2017 - 15:38:43 وقت اشاعت: 22/01/2017 - 15:20:32 کوئٹہ کی مزید خبریں

سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ باعث عوام پر صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ‘ایسے میں پورے ملک اور قوم کر اہلیان کوئٹہ کا پشت بان بننا ہوگا ، آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دوسری دفعہ قوم سانحہ کوئٹہ کے بعد متحد ہوگئی ہے ‘ واقعہ کے پیچھے ملک دشمن قوتوں ‘ کرپشن میں ملوث عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے ‘ آئین اور قانون کی بالادستی اور حفاظت کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ‘ آئین سے بالااقدام مسائل کو مزید گھمبیر بنادے گا ، محمود خان اچکزئی کی محب الوطنی پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے ‘انہوں نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت سے متعلق جو بات کی ہے وہ درست کی ہے ، مشرف اور ضیاء دونوں ڈکٹیٹر تھے تاہم ضیاء الحق کے متعلق نواز شریف سے پوچھا جائے تو بہتر ہوگا

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء )جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے باعث بلوچستان کی عوام پر صدمے کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ایسے میں پورے ملک اور قوم کر اہلیان کوئٹہ کا پشت بان بننا ہوگا ، آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دوسری دفعہ قوم سانحہ کوئٹہ کے بعد متحد ہوگئی ہے یہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا ، واقعہ کے پیچھے ملک دشمن قوتوں ، کرپشن میں ملوث عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے ، آئین اور قانون کی بالادستی اور حفاظت کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا ، آئین سے بالااقدام مسائل کو مزید گھمبیر بنادے گا ، محمود خان اچکزئی کی محب الوطنی پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے انہوں نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت سے متعلق جو بات کی ہے وہ درست کی ہے ، مشرف اور ضیاء دونوں ڈکٹیٹر تھے تاہم ضیاء الحق کے متعلق نواز شریف سے پوچھا جائے تو بہتر ہوگا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے ہولناک واقعہ نے قوم کو غم کے پہاڑ کے نیچے دبا دیا ہے ہم تمام شہداء چاہے وکیل ہو ، صحافی ہو یا سول سوسائٹی کے افراد کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کرنے کے لئے آئے ہیں ، گزشتہ روز کوئٹہ آنے کی کوشش کی مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا بعد ازاں اسلام آباد سے کراچی پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی بلکہ صحافیوں کے ٹی وی چینلز کے ہیڈ آفسز جا کر اظہار تعزیت بھی کی ۔

انہوں نے کہا کہ آج صبح کوئٹہ پہنچ کر ہائی کورٹ بلڈنگ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی اور چیف جسٹس بلوچستان محمد نور مسکانزئی سمیت صوبے کے سینئر وکلاء سے ان کے شہید ساتھیوں کے حوالے سے تعزیت کا اظہار کیا بلکہ ایک ایک شہید کے گھر بھی گئے اس واقعے کا مقصد ملک اور صوبے میں امن وامان کو تباہ کرکے انتشار پھیلانا تھا ۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ایک مرتبہ پھر قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوگئی ہے اس وقت علاقائی اور دیگر تضادات سے بڑھ کر لوگ ملک و قوم کا سوچ رہے ہیں جب سیکورٹی اداروں اور حکومتوں نے سمجھ لیا کہ بلوچستان کے معاشی ، سیاسی اور دیگر مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے تو اس واقعے کو رونما کرکے ہر چیز کو ڈسٹرب کردیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جس سے تصادم کی فضاء بنتی ہو ۔ محمود خان اچکزئی کے ساتھ میرے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات ہیں ان کی محب الوطنی پر کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے ہمیشہ آئین اور جمہوریت کے لئے درست بات کی ہے لیکن ردعمل کے طور پر ایسی بے احتیاطی نہیں کی جانی چاہیے جس سے قومی وحدت میں رخنہ پڑے ۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت دشمنوں نے عوام پر غم مسلط کیا ہے لیکن یہ غم اور صدمہ ملک و قوم کے لئے طاقت کا ذریعہ بنے گا جس طرح ملک بھر کے وکلاء اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے یکسو اور یکجا ہے ہمیں یقین ہے کہ یہ واقعہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا ۔ سب سے حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ شہداء کے لواحقین مایوس کن نہیں ۔ انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا اگرچہ انہیں پیاروں کی جدائی نے غم اور صدمے میں مبتلا کررکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ ملک دشمن قوتوں ، کرپشن میں ملوث عناصر اور غیر ملکی ایجنٹوں کے گٹھ جوڑ سے ہوا ہے ان کے نیٹ ورک کو توڑنا حکومتوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 22:57:30 :وقت اشاعت