بھارت ، گائے ذبح کرنے پر ہندو آپے سے باہر
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 23:35:25 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 23:07:37 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 23:06:11 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:49:26 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:46:40 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:32:56 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:04:13 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:04:13 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 22:04:13 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:59:25 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:59:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بھارت ، گائے ذبح کرنے پر ہندو آپے سے باہر

مشتعل مظاہرین نے ہندووٴں کی نچلی ذات 'دلت' سے تعلق رکھنے والے دو کزنز کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا

حیدر آباد،بھارت ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء ) بھارت کے جنوبی علاقے میں مبینہ طور پر گائے کاٹنے کے الزام میں مشتعل مظاہرین نے ہندووٴں کی نچلی ذات 'دلت' سے تعلق رکھنے والے دو کزنز کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست اندھرا پردیش کے مقامی ڈپٹی سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) لنکا انکائیہ کا کہنا تھا کہ تقریبا 50 افراد پر مشتمل مظاہرین نے ہندووٴں کی نچلی ذات دلت سے تعلق رکھنے والے موکاتی ایلیشا اور موکاتی وینکاشور راوٴ کو ایک درخت کے ساتھ باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا، جن پر الزام ہے کہ وہ آندھرا پردیش کے ایک گاوٴں میں ایک گائے کی کھال اتار رہے تھے۔

پولیس عہدیدار نے بتایا کہ 'جس وقت گاوٴں والوں نے دونوں افراد کو ایک گائے کی کھال اتارتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے فرض کرلیا کہ انھوں نے ایک زندہ جانور کو کاٹا ہے'۔انھوں نے واقعے میں ملوث 7 افراد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'اس موقع پر گاوٴں والے اشتعال میں آگئے اور دونوں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا'۔خیال رہے کہ گائے کو ہندو مذہب میں مقدس مقام حاصل ہے اور ہندوستان میں ان کو ہلاک کرنے پر پابندی عائد ہے تاہم دونوں افراد کا کہنا تھا کہ وہ جس گائے کی کھال اتار رہے تھے وہ بجلی کے جھٹکے سے ہلاک ہوئی تھی۔

عام طورپر 'اچھوت' تصور کیے جانے والے دلتوں کو سڑکوں پر مرنے والے جانوروں کی لاشیں ہٹانے کا کام دیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ مذکورہ حملے کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ دلتوں پر حملے نہ کیے جائیں، جو ملک میں انتہائی تذلیل کا شکار رہتے ہیں۔اس حملے کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد دونوں کزنز کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان میں سے ایک شخص کی قوت سماعت متاثر ہوئی ہے۔

متاثر شخص کے بیٹے کا کہنا تھا کہ جب خاندان کے لوگ اس کے والد اور ایک قریبی عزیز کو بچانے پہنچے تو ان کے جسموں پر تشدد سے نیل پڑ چکے تھے۔اس کا کہنا تھا کہ 'انھیں ایک فون کال کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ ان کوایک درخت سے باندھ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ہم جس وقت وہاں پہنچے ان پر تشدد کیا جاچکا تھا'۔'انھوں نے جو جرم نہیں کیا تھا اس کی سزا انھیں پتھر مار کر اور لاٹھیاں برسا کر دی گئی'۔یاد رہے کہ ہندوستان میں ہندووٴں کی نچلی ذات 'دلت' سمیت دیگر اقلیتوں پر تشدد کے واقعات ایک عام سی بات ہے تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) کی حکومت بننے کے بعد حالیہ کچھ عرصے میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔۔

10/08/2016 - 22:32:56 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان