پیپلز پارٹی کے دور میں صرف525 ، موجود دور میں دو لاکھ 39ہزار سے زائدغیر قانونی شناختی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:34:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:34:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:33:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:33:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:33:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:31:57 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:31:57 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:21:25 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:11:37 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:11:37 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:11:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پیپلز پارٹی کے دور میں صرف525 ، موجود دور میں دو لاکھ 39ہزار سے زائدغیر قانونی شناختی کارڈز بلاک کئے گئے ، تصدیقی مہم میں صرف سوا ماہ کے اندر 3 کروڑ شناختی کارٖڈز کی تصدیق کر لی گئی ہے،یہ کل تعداد کا ایک چوتھائی ہے ، شناختی کارڈ کی تصدیقی مہم کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ،نادرا ہر مہینے کمیٹی کو پیش رفت بارے بریفنگ دینے کے لئے تیار ہے ، ملا منصور کی سفری دستاویز 2005میں تیار ہوئی ،2011میں پیپلز پارٹی دور میں تجدید کرائی گئی،کہ ایف بی آر نے آف شور کمپنیوں کے حوالے سے 440 پاکستانی شہریوں کی نشاندہی کی ، ان کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں

قومی اسمبلی میں وفاقی و زراء چوہدری نثار،احسن اقبال ‘ پارلیمانی سیکرٹریز رانا افضل ا ور مریم اورنگزیب کے سوالوں کے جوابات

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء )قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آگاہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں صرف525غیر قانونی شناختی کارڈز بلاک کئے گئے جبکہ ہمارے دور میں تین سال کے اندر دو لاکھ 39ہزار سے زائد مشکوک کارڈز بلاک کئے گئے ، شناختی کارڈز کی تصدیقی مہم میں صرف سوا ماہ کے اندر تین کروڑ شناختی کارٖڈز کی تصدیق کر لی گئی ہے جو کل تعداد کا ایک چوتھائی ہے ، شناختی کارڈ کی تصدیقی مہم کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے نادرا ہر مہینے کمیٹی کو پیش رفت بارے بریفنگ دینے کے لئے تیار ہے ، ملا منصورکو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہمارے دور میں نہیں ملا، اس کی سفری دستاویز 2005میں تیار ہوئی اور2011میں پیپلز پارٹی کے دور میں اس کی تجدید کرائی گئی، قومی اسمبلی کو یہ بھی بتایاگیا کہ ایف بی آر نے آف شور کمپنیوں کے حوالے سے 440 پاکستانی شہریوں کی نشاندہی کی ہے جن کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں ۔

بدھ کو اسمبلی کے وقفہ سوالات میں وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال ،پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل اور پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ مریم اونگزیب نے ارکان کے سوالات کے جواب دیئے۔ شیخ صلاح الدین کے سوال کے جواب میں وزیر ترقی منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سندھ میں واٹر سپلائی پروگرام کے لئے گزشتہ سال 1ارب اور اس سال 2.7بلین فراہم کیا گیا ہے ۔

50فیصد فنڈز صوبائی حکومت نے فراہم کرنے ہیں ، وفاق اپنے فنڈز سندھ حکومت کے حوالے کر چکے ہیں ، حکومت ندھ نے اس منصوبے پر ایف ڈبلیو او کو ٹھیکہ دیا ہے ۔ مراد علی شاہ کے وزیراعلیٰ بننے پر امید ہے کہ منصوبے پر کام جلد شروع ہو جائے گا۔ بیلم حسنین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ بی آئی ایس پی پروگرام کا بوائلٹ پروگرام کے طور 16اضلاع میں سروے شروع ہو چکا ہے ، اگلے سال مارچ تک پورے پاکستان میں نیا سروے مکمل کر دیا جائے گا۔

1لاکھ25ہزار مشکوک لوگوں کو پروگرام سے نکال دیا گیا ہے ، بجٹ پر قائم کمیٹیوں سے تجاویز لی جاتی ہیں جن میں قابل عمل تجاویز کو بجٹ دستاویزات کا حصہ بنادیا جاتا ہے ۔ ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں رانا محمد افضل نے کہا کہ مردم شماری 2016مارچ میں کرانے کے لئے تیار تھے لیکن فوجی جوانوں کی نفری نہ ملنے پر ملتوی ہوا ۔دو لاکھ فوجیوں کی ضرورت ہوگی ۔

فنڈز مختص کر دیئے گئے ۔ فوج دستیاب ہونے پر رائے شماری کرائی جائے گی ۔ اگلے سال کے شروع میں مردم شماری کرالی جائے گی ملک میں ضرب عضب کی وجہ سے آرمی فی الحال دستیاب نہیں ہے ۔ بھارت میں مردم شماری 60سال کیلئیفریزکردیا گیا ہے لیکن ہم اگلے سال ضرور کرائیں گے ۔ ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ شناختی کارڈز بلالک کرنے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے ایک پالیسی بنائی ہے ۔

ماضی میں ایسی کوئی پالیسی نہ تھی۔ نادرا میں تصدیق کے لئے ایک بورڈ بنایاگیا ہے ، ایجنسیوں کو بھی مشکوک کارڈز تصدیق کے لئے بجھوایا جاتا ہے ۔ گزشتہ تین سال میں 96ہزار مشکوک کارڈ بلاک کئے گئے ۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مریم اورنگزیب موثر انداز میں جواب دیتی ہیں ، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں جعل سازی نہ ہوتی ہو مگر ہماری ہاں ڈیٹا بیس اتھارٹی کے باوجود ماضی میں ہزاروں جعلی شناختی کارڈز بنائے گئے ۔

گزشتہ حکومت کے دور میں صرف525شناختی کارڈ بلاک ہوئے ہمارے تین سال میں دو لاکھ 37ہزار شناختی کارڈز بلاک کئے گئے ، اس وقت تک ساڑے تین کروڑ شناختی کارڈز کی تصدیق ہو گئی ہے ۔35لاکھ نے ازخود تصدیق کرائی ، سوامہینے میں ایک کروڑ کی تصدیق ہوگئی ہے ، ہزاروں افراد کے ایس ایم ایس پر پتہ چلا کہ ان کی فیملی ٹری میں جعلی لوگ ہیں ۔ تمام معاملے کی نگرانی کے لئے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تا کہ ہر مہینے نادرا ان کو رتصدیق بارے بریفنگ دے گی ، چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اگر کوئی افغان مرد پاکستانی عورت سے شادی کرے گا تو وہ پاکستانی نہیں کہلائے گا وہ افغانی ہی رہے اور اس کے بچے بھی افغانی ہی ہوں گے نسیم حفیظ کے سوال کے جواب میں رانا محمد افضل نے کہا کہ بلوچستان میں 10لاکھ 56ہزار افراد کا بی آئی ایس پی کا سروے کیا گیا جن میں سے 45فیصد نے حقدار ہونے کے معیار کو پورا کیا۔

دو لاکھ 74ہازر افراد بی آئی ایس پی سے نقد رقم حاصل کر رہے ہیں ۔ برطانیہ نے بی آئی ایس پی کو اے پلس ریٹنگ دی ہے ، نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں رانا محمد افضل نے کہا کہ ایف بی آر پاکستانی شہریوں کی آف شورکمپنیوں میں سرمایہ کاری یا انکم بارے دستاویزی ثبوت حاصل کر رہا ہے ، اگر ٹیکس ادا کرکے کوئی رقم بیرون ملک منتقل کی جائے تو وہ قانونی ہو گا لیکن اگر کوئی سرمایہ ظاہر کئے بغیر اور ٹیکس ادا کئے بغیر باہر بجھوایا جائے تو وہ غیر قانونی ہو گا۔

440ایسے لوگ شناخت کئے گئے ہیں جن کے نام آف شور کمپنیوں میں آئے ہیں ان کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ملا منصور پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنے کا اہل نہ تھا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملامنصور کو 2005میں پاسپورٹ جاری کیا گیا اور2011میں رینیو کیا گیا ۔ 11سے مئی13تک صرف پانچ ہزار پاسپورٹ بلاک ہو گئے تھے ۔

2013سے2016میں 27ہزار پاسپورٹ بلاک کئے گئے ۔ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جون2013سے پاسپورٹ کے ایشوزپر کام شروع کیا ہے ۔ 2005میں ملا منصور کا پاسپورٹ بنا،2011 میں رینیو ہوا، موجودہ حکومت کے دور میں نہیں بنا، اسی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر ملا منصور نے ایران سمیت متعدد ممالک کا دارہ کیا، جن ایف آئی اے افسران کے ذریعے یہ ایران گیا اور آیا معطل ہوا جنہوں نے سفری دستاویز جاری کی وہ بھی فارغ کئے گئے جس تحصیلدار نے ان کی تصدیق کی اسے بھی گرفتار کر لیا ۔

ماضی کے گند کو 6سے8سال میں صاف کریں گے ۔ یہ میرا ذاتی کام نہیں ، یہ قومی کام ہے بہت سارے کام میں نہیں کر سکا مگر پارلیمنٹ میری راہنمائی کرے ، ایفے میں پارلیمانی کمیٹی بنا دیں دے ، فوزیہ حمید کو فروخت کئے گئے اثاثوں کی رقم نہ ملنے پر متعدد عدالتوں میں زیر التوا ہیں ۔ پی ٹی سی ایل کے بغیر فنڈز ملنے تک اس کی جائیدادیں ہمارے پاس ہی رہیں گی ۔

10/08/2016 - 21:31:57 :وقت اشاعت