سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانے والی تصاویر کی حقیقت سامنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:09:48 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:09:48 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:07:42 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:06:10 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:06:10 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 21:05:00 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:57:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:55:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:55:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:50:14 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:46:36
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانے والی تصاویر کی حقیقت سامنے آ گئی

تصویریں نو سالہ انڈونیشین بچی کی ہیں،2015ء میں قتل کر کے لاش کو ٹیپ سے لپیٹ کر اور ڈبے میں بند کر کے پھینک دی گئی تھی , وفاقی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویرجاری ہونے کے بعد ایف آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت کی تھی

سلام آباد/لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء )سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنسنی پھیلانے والی تصاویر کی حقیقت سامنے آ گئی ، تصویریں نو سالہ انڈونیشین بچی کی ہیں جسے 2015ء میں اغوا ء اورزیادتی کے بعد لاش کو ٹیپ سے لپیٹ کر ڈبے میں بند کرکے کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب میں بچوں کی بڑھتی ہوئی اغوا ء کی وارداتوں نے والدین کو پریشان کردیا ہے اور اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر بچوں کی اسمگلنگ کی خبروں اور تصاویر نے سنسنی پھیلادی جس کے بعد ایف آئی اے حکام بھی ایکشن میں آ گئے ۔

تاہم سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ان تصاویر کی حقیقت سامنے آ گئی ہے ۔ یہ تصاویر نو سالہ انڈونیشین بچی پتری نور فوزیہ کی ہیں جسے گزشتہ سال اکتوبر میں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ سفاک قاتلوں نے بچی کی لاش ٹیپ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 21:05:00 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان