قومی اسمبلی ٗ اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنانے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:45:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:44:39 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:44:39 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:35:58 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:35:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

قومی اسمبلی ٗ اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنانے کی تجویز یدیدی

حکومت اکیلے دہشتگردی کے خلاف نہیں لڑ سکتی ٗ سب کو ملکر لڑنا ہوگا ٗآخر کب تک معصوم لوگوں کے خون پر آنسو بہاتے رہیں گے ٗ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت منفی سیاست نہ کرے ٗسندھ میں دہشت گردی کے مجرم پکڑے جاتے ہیں پنجاب اور دوسرے صوبوں میں کیوں نہیں ٗخورشید شاہ کا اظہار خیال , اتنی بڑی قیمت ادا کرنے کے باوجود عالمی برادری ہمارا موقف تسلیم کرنے سے ہچکچا رہی ہے ٗشاہ محمود قریشی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے حکومت کو پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اکیلے دہشتگردی کے خلاف نہیں لڑ سکتی ٗ سب کو ملکر لڑنا ہوگا ٗآخر کب تک معصوم لوگوں کے خون پر آنسو بہاتے رہیں گے ٗ نیشنل ایکشن پلان پر حکومت منفی سیاست نہ کرے ٗسندھ میں دہشت گردی کے مجرم پکڑے جاتے ہیں پنجاب اور دوسرے صوبوں میں کیوں نہیں۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ دس اگست ملک کی تاریخ میں بے حد اہمیت کا حامل ہے ٗدس اگست 1947ء کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ برصغیر کے مسلمانوں کی لازوال قربانیوں سے پاکستان وجود میں آیا۔ 11 اگست 1947ء کو قائد اعظم اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں جن خیالات کا اظہار کیا تھا ان میں سے کئی باتیں آج کے حالات سے مطابقت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ پارلیمنٹ حکومت کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہے چاروں صوبوں میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے۔ اب بلوچستان میں جو واقعہ ہوا ہے یہ اپنی نوعیت کا الگ واقعہ ہے جس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے سینئر وکلاء کی بڑی تعداد شہید کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں تمام ادارے دہشت گردی کے حوالے سے جوابدہ ہوں۔

کہاکہ حکومت کو ایک پیش کش کی ہے کہ ایک ایکشن کمیٹی بنائی جائے،حکومت دہشتگردوں سے اکیلے نہیں لڑسکتی،سب کو مل کرلڑنا ہوگا،انہوں نے کہا ہے کہ آخر کب تک معصوم لوگوں کے خون پر آنسو بہاتے رہیں گے، ہمیشہ جان چھڑائی گئی کبھی کسی پر الزام لگایا کبھی کسی تنظیم کا نام لیا اور کسی کو روکا نہیں گیا جس کی وجہ یہ بنی کہ پہلے سے زیادہ سخت حملے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا پتہ کیوں نہیں چلتا، حکومت پوچھے یا ذمہ داروں کو ایوان میں بلائیں ہم پوچھیں گے، دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی جائے اور تمام ادارے پارلیمنٹ کی اس کمیٹی کو جواب دہ ہوں۔سید خورشید شاہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 20:42:44 :وقت اشاعت