ملکی ایجنسیوں کیخلاف بولنے والے کاش ’را‘ کے خلاف بھی بیانات دیتے ٗ اتفاق ہوگا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:42:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:37:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:35:58 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:35:58 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:35:58 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:16:02 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:15:26
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

ملکی ایجنسیوں کیخلاف بولنے والے کاش ’را‘ کے خلاف بھی بیانات دیتے ٗ اتفاق ہوگا تو دہشتگردی ضرور ختم ہوگی ٗ وزیر داخلہ

خون کی ہولی کھیلنے والے لوگ ہمارے اندر اختلافات پیدا نہیں کر سکتے سیکیورٹی فورسز جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کو محفوظ بنارہی ہیں ٗقوم کے اتفاق سے دہشتگرد حملوں کو صفر پر لائینگے ٗ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے پہلے روزانہ 5 سے 6 دھماکے ہوتے تھے، 2009 اور 2010 سیکیورٹی کے حوالے سے ملکی تاریخ کے بدترین سال تھے ٗجی ایچ کیو پر حملہ 36گھنٹے تک جاری رہا ٗ فوجی عدالتیں مسلم لیگ (ن) نے سیاسی مخالفین کے لئے نہیں دہشتگردوں کیلئے بنائی تھیں ٗ قومی سلامتی کے حوالے سے جاری اجلاس کے اختتام پر ایوان کو بریفنگ دوں گا ٗ چوہدری نثار علی خان کا اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملکی ایجنسیوں کے خلاف بولنے والے کاش ’را‘ کے خلاف بھی بیانات دیتے ٗ اتفاق ہوگا تو دہشتگردی ضرور ختم ہوگی ٗ خون کی ہولی کھیلنے والے لوگ ہمارے اندر اختلافات پیدا نہیں کر سکتے سیکیورٹی فورسز جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کو محفوظ بنارہی ہیں ٗقوم کے اتفاق سے دہشتگرد حملوں کو صفر پر لائینگے ٗ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے پہلے روزانہ 5 سے 6 دھماکے ہوتے تھے، 2009 اور 2010 سیکیورٹی کے حوالے سے ملکی تاریخ کے بدترین سال تھے ٗجی ایچ کیو پر حملہ 36گھنٹے تک جاری رہا ٗ فوجی عدالتیں مسلم لیگ (ن) نے سیاسی مخالفین کے لئے نہیں دہشتگردوں کیلئے بنائی تھیں ٗ قومی سلامتی کے حوالے سے جاری اجلاس کے اختتام پر ایوان کو بریفنگ دوں گا۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ پاکستان کی سیکیورٹی کی صورتحال کسی ایک حکومت کے دور میں خراب نہیں ہوئی اور ماضی میں یہ صورتحال بد سے بدتر ہوتی گئی لیکن گزشتہ اڑھائی سال میں پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔وزیرداخلہ نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے پہلے روزانہ 5 سے 6 دھماکے ہوتے تھے، 2009 اور 2010 سیکیورٹی کے حوالے سے ملکی تاریخ کے بدترین سال تھے ٗ دارالحکومت اسلام آباد بھی محفوظ نہیں تھا، اور ریڈ زون میں بھی حملے ہوتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو پر حملہ ہوا جو 36 گھنٹے تک جاری رہا ٗپاکستان نیوی اور ایئر فورس کے بیسز پر بھی حملے ہوئے، آج بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہوا تاہم صورتحال بہتر ہے اور سیکیورٹی صورتحال میں بہتری سول ملٹری اتحاد کی بدولت ممکن ہوئی۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ہمارے دشمن صرف اندرونی نہیں غیر ملکی بھی ہیں، طالبان سے مذاکرات کے دوران اندازہ ہوا کہ ہم سے ڈبل گیم ہورہی ہے کیونکہ ایک طرف مذاکرات ہورہے تھے تو دوسری جانب حملے کیے جارہے تھے جس کے بعد دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے شروع کیا گیا وزیر داخلہ نے کہا کہ اتفاق ہوگا تو دہشت گردی ضرور ختم ہوگی، خون کی ہولی کھیلنے والے لوگ ہمارے اندر اختلاف پیدا نہیں کرسکتے، ہم پہلے سے زیادہ پرعزم ہوکر دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گے اور قوم کے اتفاق سے دہشت گرد حملوں کو صفر پر لائیں گے۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اپنا فرض احسن انداز سے نبھارہے ہیں، سیکیورٹی فورسز جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کو محفوظ بنارہی ہیں اور پارلیمنٹ فورسز کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایوان میں سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر تنقید کرکے ان کے مورال کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ٗ دکھ کے ان لمحات میں ایسے متنازع بیانات قابل مذمت اور کسی طور پر قابل قبول نہیں جبکہ ملکی ایجنسیوں کے خلاف بولنے والے کاش بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے خلاف بھی بیانات دیتے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں گزشتہ روز فیصلہ کیا گیا تھا کہ آج اس حوالے سے ایک اجلاس ہوا جس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ اجلاس جمعرات کو

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 20:37:53 :وقت اشاعت