بطور پالیسی ساز ہمیں پالیسیاں مرتب کرتے ، انفرا سٹرکچر بناتے وقت لازمی طور پر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:07:32 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:06:12 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:04:16 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:04:15 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:02:36 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:02:35 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:01:04 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:01:04 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:56:48 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:55:32 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:51:48
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

بطور پالیسی ساز ہمیں پالیسیاں مرتب کرتے ، انفرا سٹرکچر بناتے وقت لازمی طور پر شمولیت کے نظریات اپنانے چاہئیں، تاکہ مالی و سماجی شمولیت میں اضافے کیلئے سب کو مساوی مواقع فراہم ہو سکیں، گورنراسٹیٹ بینک

اسٹیٹ بینک اور سوئیڈش سفارتخانے کا مشترکہ ورکشاپ، عالمی ماہرین کا مالی شمولیت کے تجربات پر اظہار خیال

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اشرف محمود وتھرا اور سوئیڈن کی سفیر انگرڈ جوہانسن نے وفاقی دارالحکومت میں ایک روزہ ورکشاپ بعنوان مالی و سماجی شمولیت بذریعہ موبائل منی اینڈ ایم کامرس کی مشترکہ میزبانی کی۔ اس موقع پر سوئیڈن کے بین الاقوامی ماہرین نے سوئیڈن، پیرواور روانڈا میں اپنے ان تجربات کا ذکر کیا جو مالی و سماجی شمولیت میں اضافے کے لیے ادائیگی کو ڈیجیٹل طریقے پر لانے سے انہیں حاصل ہوئے۔

تقریب میں متعلقہ وزارتوں اور سرکاری محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اپنے ابتدائی کلمات میں گورنر وتھرا نے کہاکہ بطور پالیسی ساز ہمیں پالیسیاں مرتب کرتے ہوئے اور انفرا سٹرکچر بناتے ہوئے لازمی طور پر شمولیت کے نظریات اپنانے چاہئیں، تاکہ مالی و سماجی شمولیت میں اضافے کے لیے سب کو مساوی مواقع فراہم ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مالی منڈیوں کو زیادہ شمولیت کا حامل بنانے کے لیے نمایاں کوششیں کیں اور اسٹیٹ بینک پاکستان میں شمولیتی ڈیجیٹل مالی خدمات کا نظام وضع کرنے میں سب سے آگے رہا ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ موبائل منی بہت سی بنیادی مالی خدمات کے لیے بروئے کار لائی جاسکے، جیسے رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی، خردہ ادائیگیاں اور قرض تک رسائی ۔

اسٹیٹ بینک نے 2008 میں برانچ لیس بینکاری کے ضوابط جاری کیے تھے اور تب سے برانچ لیس بینکاری میں شاندار نمو دیکھنے میں آئی۔انہوں نے بتایاکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مالی شمولیت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ آج پاکستان اپنی اختراعی پالیسی کے باعث برانچ لیس بینکاری میں تیزترین ترقی کرتی ہوئی منڈیوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے مختلف بینکاری طریقے اور ٹیکنالوجیکل

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 20:02:35 :وقت اشاعت