چترال قدرتی آفات و صوبائی و مرکزی حکومتوں کے عدم توجہی کے باعث پتھر کے زمانے میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 20:01:04 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:59:45 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:59:45 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:59:45 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:56:48 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:56:48 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:55:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:55:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:55:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:27:57 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 19:27:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

چترال قدرتی آفات و صوبائی و مرکزی حکومتوں کے عدم توجہی کے باعث پتھر کے زمانے میں چلا گیا،مشتاق احمدخان

زلزلوں ، سیلابوں کے تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک شروع نہیں کیاجا سکا ،زلزلوں ،سیلاب کے بعد بحالی کے کام کیلئے 16 ارب روپے درکار ،10 ارب روپے کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے یونٹس کیلئے درکار ہیں،امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ ضلع چترال قدرتی آفات اور صوبائی و مرکزی حکومتوں کے عدم توجہی کے باعث پتھر کے زمانے میں چلا گیا ہے۔ تعلیم و صحت کی سہولیات ناپید اور انفراسٹرکچر تباہ ہوچکی ہے۔ زلزلوں اور سیلابوں کے تباہی کے بعد بحالی کا کام ابھی تک شروع نہیں کیاجا سکا ہے۔

زلزلوں اور سیلاب کے بعد بحالی کے کام کے لیے 16 ارب روپے درکار جب کہ 10 ارب روپے کمیونٹی کے چھوٹے چھوٹے یونٹس کے لیے درکار ہیں۔حکومت کے لیے باعث شرم ہے کہ چترال میں گزشتہ ایک سال سے پورے پورے تحصیل بجلی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ چترال کا تفصیلی دورہ کریں اور چترال کے عوام کو درپیش مسائل سے آگاہی حاصل کریں۔

چترال کو چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک سے لنک کیا جائے تاکہ چترالی عوام بھی اس کے ثمرات سے استفادہ کرسکیں. چترال تاجکستان روڈ پر کام شروع کیا جائے. بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت اور سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے. چترال کے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا ہم پاکستان کا حصہ نہیں ہیں ؟کیا پاکستان کے وسائل پر چترال کے عوام کا حق نہیں ہے ؟کیا چترال کے حوالے سے حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں۔

سیلاب اور زلزلے کے متاثرین کی بحالی جلد از جلد مکمل کی جائے اور جن افراد سے بیان حلفی لیا گیا ہے ان کی فوری امداد اور بحالی مکمل کی جائے. چترال کی جغرافیائی اہمیت اور موجودہ ہنگامی صورتحال میں ضلعی حکومت کو مکمل با اختیار بنایا جائے اور مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے تمام ترقیاتی پراجیکٹس کو مؤثر کارکردگی کی خاطر ضلعی ناظم کے ماتحت کیا جائے. وہ ضلع چترال کے چار روزہ دورے کے اختتام پر گورنر کاٹیج چترال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرر ہے تھے . چترال نے گزشتہ 40 سالوں میں جو ترقی کی تھی وہ گزشتہ سال سیلاب میں ختم ہوگیا۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی چترال مولانا جمشید ،سابق ممبرقو می اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی اور ضلع ناظم چترال سید مغفرت شاہ بھی صوبائی امیر کے ہمراہ تھے۔ مشتاق احمد خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چترال کے اندر بڑے بڑے پل ، بجلی گھر اور نہریں مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ ریشن بجلی گھر جو 25000 گھرانوں کو بجلی فراہم کرتا تھا مکمل طور پر تباہ ہوا ہے۔

اسی طرح چترال بونی شندور روڈ ، چترال توہ کہو،ریچ روڈ ،بونی تریچ روڈ،موڑ کہو روڈ ، گرم چشمہ روڈ ، بمبوریت روڈ ، شیشی کوہ اور ارندو روڈ بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ان کی بحالی پر ایک سال گذرنے کے باوجود کا م کا آغاز نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے چترال ضلع ایک جنگ زدہ علاقے کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ روڈ اور بجلی گھر کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک ارب روپے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ ملٹی سیکٹر پراجیکٹ جس کی دورانیہ چار پانچ سال ہوگی کی منظوری دی جائے۔

مشتاق احمدخان نے کہا کہ سنٹرل ایشیاء کے لیے چترال کا راستہ مختصر ترین اور محفوظ ترین ہے خوروگ اور چترال کے درمیان فضائی راستہ 30 منٹ کا ہے لہذا اس راستے پرفضائی سفر اکا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ 2017 میں گولیں گول ھائیڈل پاور پراجیکٹ مکمل ہورہا ہے۔چونکہ چترال سیلاب اور زلزلے سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے لہذا سستے قیمت پر چترال کو بجلی فراہم کی جائے تاکہ جنگلات پر بوجھ کم کیا جاسکے۔

توانائی کے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں تاکہ جنگلات کوبچایا جاسکے اور جنگلات میں مقامی آبادی کے لیے رائیلیٹی کے شیئر کو 60 فی صد سے بڑھا کر 100 فی صد کردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ چترال میں ھائیڈل پاور کے بہت زیادہ مواقعے موجود ہیں ان پرپاور ہا?س تعمیر کیے جائیں اگر مرکزی و صوبائی حکومت فنڈ نگ نہیں کر سکتے تو بیر ونی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں سرحدی علاقوں کومحفوظ بنانے کے لیے بمبوریت ، گبور ، ارسون ، ارندو، دمیل اور دوسرے سرحدی علاقوں سے کم از کم 500 افراد لیویز میں بھرتی کیے جائیں۔

10/08/2016 - 19:56:48 :وقت اشاعت