محمود اچکزئی کے قومی سلامتی اداروں کے خلاف بیان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:38:56 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:26:09 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:26:09 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:24:09 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:24:09 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:24:09 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:22:10 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:22:10 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:15:22 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:13:23 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 18:13:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

محمود اچکزئی کے قومی سلامتی اداروں کے خلاف بیان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قربانیاں دینے والوں کو منفی پیغام دیا گیا،کاش وہ پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز پر تنقید کے ساتھ را اور این ڈی ایس کے ظلم وستم کی بھی مذمت کرتے،میری عدم موجودگی میں کوئٹہ واقعہ کے حوالے سے تقاریر ہوئیں ،ایک صاحب کی باتیں قابل مذمت ہیں، یہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں ، کسی کے چہیتے ہونایا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا

وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا قومی اسمبلی سے خطاب میں محموداچکزئی کے بیان پر ردعمل

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء ) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی طرف سے قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف دیئے گئے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس بیان سے دہشت گردی کے خلاف جانیں قربان کرنے والوں کو منفی پیغام دیا گیا ہے ، جہاں انہوں نے پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیز پر تنقید کی ہے ،کاش وہ اس کے ساتھ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ظلم وستم کی بھی مذمت کرتے ۔

وزیراعظم نوازشریف کی موجودگی میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گزشتہ روز میری عدم موجودگی میں کوئٹہ واقعہ کے حوالے سے تقاریر ہوئیں اور ایک صاحب نے جو الزامات لگائے ہیں میں ان کا جواب دینا چاہتا ہوں اور ان کی باتیں قابل مذمت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے اتحاد، یکجہتی اور دہشت گردوں کے خلاف پر عزم رہنے کا پیغام جانا چاہیے، اگر ایسے باتیں کسی غیر ملکی پارلیمنٹ میں کی جاتیں تو وہ بھی قابل تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ چاہے کوئی حکومت کا اتحادی ہو یا خوانخوانستہ کابینہ کا رکن ہو جو بھی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بات کرے گا اس کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ یہ حکومت اور اپوزیشن کی بات نہیں یا کسی کا چہیتا ہونایا نہ ہونا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ ملک اور قوم کی بات ہے اور قومی سلامتی کے اداروں کے افسران اور اہلکار پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں ہمیں ان کے حوصلے بڑھانے چاہئیں نہ کہ ان کے حوصلے پست کرنے چاہئیں، اس طرح کی باتیں جو بھی کرے وہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے۔

10/08/2016 - 18:24:09 :وقت اشاعت