عراق کے سب سے بڑے میٹرنٹی ہسپتال میں آگ لگنے سے 11 نوزائیدہ بچے ہلاک ہوگئے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:43:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:43:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:41:37 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:39:59 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:37:39 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:37:38 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:31:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:29:13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

عراق کے سب سے بڑے میٹرنٹی ہسپتال میں آگ لگنے سے 11 نوزائیدہ بچے ہلاک ہوگئے

بغداد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اگست۔2016ء) عراق کے سب سے بڑے میٹرنٹی ہسپتال میں آگ لگنے کی وجہ سے وہاں موجود 11 نوزائیدہ بچے ہلاک ہوگئے۔یہ افسوس ناک واقعہ دارالحکومت بغداد کے یرموک ہسپتال میں پیش آیا اور اس واقعے میں تین بچے پھیپھڑوں میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے تھے تاہم انہیں بچالیا گیا۔عرب نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عراقی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ ہسپتال میں آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی تھی اور ہسپتال میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے 11 نوزائیدہ بچوں کا دم گھٹ گیا۔

ایک اور عہدے دار نے بتایا کہ ہسپتال میں موجود 7 بچوں اور 29 خواتین کو بحفاظت دوسرے ہسپتال منتقل کردیا گیا اور جو بچے ہلاک ہوئے وہ قبل از وقت پیدا ہوگئے تھے اور انہیں انکیوبیٹر پر رکھا گیا تھا۔آگ پر قابو پانے میں تین گھنٹے لگے اور وزارت صحت کا کہنا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔واقعے کے بعد ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین نے ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور اس کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا۔

30 سالہ حسین عمر نے بتایا کہ ایک ہفتے قبل اس کے جڑواں بچے ہسپتال سے لاپتہ ہوگئے تھے، ہسپتال انتظامیہ نے کہا کہ وہ انہیں دوسرے ہسپتالوں میں تلاش کرے۔انہوں نے بتایا کہ جب بچے نہیں ملے تو ہسپتال والوں نے کہا کہ وہ مردہ خانے میں ہیں، 'مجھے میرے بچے واپس چاہئیں، حکومت کو میرے بچوں کو واپس کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ عراق کے زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے اور لوگ مجبوراً پرائیوٹ ہسپتالوں سے مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں۔

10/08/2016 - 17:37:38 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان