چند مہینوں میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کردیا جائیگا۔چوہدری نثار
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:37:39 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:37:38 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:30 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:32:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:31:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:29:13 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:22:52 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:16:38 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:14:53 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 17:14:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

چند مہینوں میں دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کردیا جائیگا۔چوہدری نثار

ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کیخلاف آوازاٹھانے والے ”را“ اوراین ڈی ایس کے خلاف بھی اوازاٹھائیں،ملٹری کورٹس کامقصد سیاسی مخالفین کو دبانا نہیں بلکہ دہشتگردوں کو سزائیں دیناہے،دہشتگردی کیخلاف جنگ گزشتہ10سال سے جاری تھی،2013 میں روزانہ 5 سے 6 دہشتگردی کے واقعات ہوتے تھے،اب پہلے8مہنیوں میں دہشتگردی کے181واقعات ہوئے،دہشتگردی میں کمی عوامی سپورٹ کے باعث‌حاصل ہوئی ہے۔وفاقی وزیرداخلہ کا قومی اسمبلی میں‌اظہارخیال

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10اگست2016ء):وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ کل اداروں کے خلاف تضحیک آمیز الفاظ‌ استعمال کیے گئے،کاش قانون کی بات کرنیوالوں کی آواز را کے خلاف بھی اٹھتی،کل جو پارلیمنٹ‌سے آوازدنیا میں‌گئی وہ کسی اور ملک میں‌ہوتا تومذمت کرتے،پاکستان میں عراق سے بھی زیادہ دہشتگردی کے حملے ہوئے،دہشتگردی کیخلاف جنگ گزشتہ10سال سے جاری تھی، 2013روزانہ 5 سے 6 دہشتگردی کے واقعات ہوتے تھے،اب پہلے8مہنیوں میں دہشتگردی کے181واقعات ہوئے،یہ کمی عوامی سپورٹ کے باعث‌حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں‌ اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی صورتحال ایک جماعت یا حکومت کے دور میں بدترنہیں‌ ہوئی،بلکہ پچھلے کئی سالوں میں‌ بدترہوئی ہے۔لیکن جب 2013میں‌ یہ حکومت آئی۔گزشتہ ڈھائی سالوں سے حکومت کی بھرپور پور کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کی سیکورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے،ملک کی سیکورٹی کی خراب حالت کسی ایک حکومت کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں کے دور میں صورتحال مخدوش رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ2009-10ء پاکستان کی تاریخ کے بدترین سال تھے جس میں سب سے زیادہ دہشتگرد حملے ہوتے ہیں۔اسلام آباد محفوظ نہیں‌تھا۔میریٹ ہوٹل میں دن دیہاڑے حملہ ہوا۔گورنر مارا گیا،پاکستانی کی ایئربیس اور نیوی کی بیس پر حملے ہوئے۔متواتردہشتگردی کے ایک سال میں 2000دہشتگردی کے حملے ہوں تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔آج دھماکہ نہ ہو تو خبر بنتی ہے جب کہ تب دھماکہ ہوتا تھا تو خبر بنتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عراق سے بھی زیادہ دہشتگردی کے حملے ہوئے ہیں۔مخصوص ذہن پاکستان کا امن بہتر ہوتا نہیں‌ دیکھ سکتے۔جب کراچی میں حملہ ہوا تو وزیراعظم نے کہا کہ اب بس کافی ہوگیا۔افغانستان میں‌صدارتی الیکشن کے بعد 14جون کو فیصلہ ہوا۔تحریک انصاف کو تحفظات تھے تو میں‌عمران خان سے ملنے گیا۔جماعت اسلامی سمیت تمام پارٹیوں کے سامنے تمام ریکارڈ پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف خود بھی کہتے ہیں کہ کوئی ملٹری آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک عوام کی سپورٹ‌حاصل نہ ہو۔لیکن اب ملک میں‌دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں‌عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں اور سول ملٹری اتحادی کی وجہ سے دہشتگردی میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کی رضا مندی کے بعد دہشتگردوں کے خلاف ملٹری آپریشن کا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 17:31:28 :وقت اشاعت