افغان صوبہ ہلمند کے شہر لشکر گاہ کے قریب طالبان اور افغان فورسز میں گھمسان کی لڑائی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 16:31:01 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 16:26:04 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 16:12:44 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 15:18:33 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 15:11:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 15:11:28 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:48:20 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:48:20 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:48:20 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:47:27 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:47:27
پچھلی خبریں - مزید خبریں

افغان صوبہ ہلمند کے شہر لشکر گاہ کے قریب طالبان اور افغان فورسز میں گھمسان کی لڑائی جاری

کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے مرکزی شہر لشکر گاہ کے قریب طالبان اور افغان سیکورٹی فورسز کے دمیان گھمسان کی لڑائی جاری ،حکام نے متنبہ کیا ہے کہ لشکر گاہ طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے۔افغان میڈیا کے مطابق حکام نے متنبہ کیا ہے کہ جنوبی صوبہ ہلمند کا مرکزی شہر لشکر گاہ طالبان کے قبضے میں جا سکتا ہے۔

یہاں طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے مزید دستے بھی یہاں تعینات کر دیے گئے ہیں۔سکیورٹی حکام اور مقامی عمائدین کی طرف سے یہ کہا جا رہا ہے کہ لشکر گاہ کے لیے خطرہ موجود ہے لیکن صورتحال قابو میں ہے۔تاہم صوبائی کونسل کے سربراہ کریم اتل کہنا ہے کہ طالبان نے لشکر گاہ شہر کو پوری طرح سے گھیر لیا ہے اور فوج اور پولیس کو ان کی چوکیوں سے واپس بلا لیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہمیں مرکزی حکومت کی طرف سے مدد نہیں ملتی تو صوبہ جلد ہی(ہاتھوں سے نکل)جائے گا۔کریم اتل کا کہنا ہے کہ تازہ دم فورسز آ رہی ہیں۔لڑائی کے باعث لشکر گاہ کے لیے بڑی شاہراہیں بند ہیں جس کی وجہ سے شہر میں خوراک اور دیگر اشیائے ضروری کی قلت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں جب کہ یہ خبریں بھی موصول ہو چکی ہیں کہ یہاں سے ہزاروں افراد نے لڑائی کے پیش نظر نقل مکانی کی ہے۔

طالبان نے شہر کے مرکزی حصے سے چند کلو میٹر دور چند علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔بین الاقوامی غیر سرکاری طبی امدادی تنظیم "ڈاکٹرز ود آٹ بارڈرز" کے ایک نمائندے کے مطابق تنظیم نے لشکر گاہ میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرتے ہوئے اپنے غیر ملکی عملے کی تعداد کو کم کر دیا ہے اور یہاں صرف ہنگامی طبی امداد کی سہولت کو جاری رکھا ہے۔ان کے بقول یہاں تنظیم کے زیر انتظام تین سو بستروں کا اسپتال کام کر رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں لڑائی کے باعث سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے یہاں مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
10/08/2016 - 15:11:28 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان