50 فیصد ملازم پیشہ خواتین کو جنسی ہراس کا سامنا،سرو ے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:29:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:29:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:28:50 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:28:50 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:28:50 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:19:45 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:09:56 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:09:22 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:08:40 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:08:40 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 14:08:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

50 فیصد ملازم پیشہ خواتین کو جنسی ہراس کا سامنا،سرو ے

لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)برطانیہ میں ٹریڈ یونین کانگریس (ٹی یو سی) کی نئی تحقیق کے مطابق دفاتر میں کام کرنے والی والی نصف سے زیادہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان میں سے متعدد نے اس کی شکایت نہ کرنے کو تسلیم کیا ہے۔ڈیڑھ ہزار خواتین پر کیے جانے والے سروے کے مطابق ایک تہائی خواتین کو ناپسندیدہ لطائف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ ایک چوتھائی کو ان کی مرضی کے بغیر چھوا گیا۔

ٹی یو سی کی سربراہ فرانسس او گریڈی کا کہنا ہے کہ ایسی متاثرہ خواتین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ خوفزدہ بھی ہوئیں۔اوگریڈی نے اسے سکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند خواتین نے محسوس کیا کہ ان کے مالکان اس مسئلے سے پوری طرح نمٹ رہے تھے۔ٹی یو سی کا کہنا ہے کہ دفتروں میں کام کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں اپنے ساتھی کی سیکس لائف کے بارے میں غیر مناسب تبصرے اور مذاق کرنا، انھیں ان کی مرضی کے بغیر چھونا، گلے لگانا یا بوسہ لینا یا پھر سیکس کے لیے مطالبہ کرنا شامل ہیں۔

سروے کے مطابق ان دس میں سے نو واقعات کے مرتکب مرد ہوتے ہیں جب کہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون (17 فیصد) کا کہنا ہے کہ ان واقعات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 14:19:45 :وقت اشاعت