حریت رہنماؤں کا نریندر مودی کے کشمیر بارے حالیہ بیان پر شدید ردعمل
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

حریت رہنماؤں کا نریندر مودی کے کشمیر بارے حالیہ بیان پر شدید ردعمل

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء)مقبوضہ کشمیرمیں حریت رہنماؤں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان کہ ”جموں و کشمیر کے مسئلے کو اقتصاری طور حل کیا جاسکتا ہے“ پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیاکہ تنازعہ کشمیر نہ تو اقتصادی مسئلہ ہے اور نہ ہی کشمیری کسی اقتصادی پیکیج کیلئے تحریک چلارہے ہیں بلکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف اپنی پر امن جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نریندر مودی کے حالیہ بیان تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے قدرتی ذررئع اور وسائل پر قبضہ کرکے کشمیریوں کو دانے دانے کا محتاج بنادے۔انہوں نے نریندر مودی پر واضح کیا کہ جموں وکشمیر بھارت کی بہت سی ریاستوں سے بہتراقتصادی پوزیشن میں ہے اورکشمیری نوجوان اقتصادی خوشحالی کیلئے نہیں بلکہ صرف اور صرف آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔

سید علی گیلانی نے نریندرمودی کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کھیلی گئی خون کی ہولی سے 70سے زائد افراد کا قتل، 400سے زائد کو بینائی سے محروم اور 6ہزار سے زائد کے زخمی ہونے پر بات کرنا انہیں گوارہ نہیں ہوا جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بھارت کا وزیر اعظم بننے کے باوجود ان کے اندر ابھی بھی 2002ء کے گجرات کے فسادات کا وحشی چھپا ہوا ہے۔

حریت چیئرمین نے بی جے پی کے اس بیان کہ ”کشمیر کی تحریک کو آہنی ہاتھوں سے کچلنا چاہیے“ پر ردّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور اس کی قابض فوج گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو پھولوں سے نہیں بلکہ آہنی ہاتھوں سے ہی زیر کرنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن انہوں نے کہاکہ وہ کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامایب نہیں ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیرمیں ایک ہارئی ہوئی جنگ لڑ رہا ہے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 13:39:27 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان