دفاتر میں کام کرنے والی والی نصف سے زیادہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 10/08/2016 - 13:03:06 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 13:03:03 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:59:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:59:29 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:56:19 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:53:18 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:53:18 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:53:18 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:38:18 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:34:37 وقت اشاعت: 10/08/2016 - 12:17:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

دفاتر میں کام کرنے والی والی نصف سے زیادہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے:برطانوی ٹریڈ یونین کانگریس

لندن(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔10 اگست۔2016ء)برطانیہ میں ٹریڈ یونین کانگریس کی نئی تحقیق کے مطابق دفاتر میں کام کرنے والی والی نصف سے زیادہ خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان میں سے متعدد نے اس کی شکایت نہ کرنے کو تسلیم کیا ہے۔ڈیڑھ ہزار خواتین پر کیے جانے والے سروے کے مطابق ایک تہائی خواتین کو ناپسندیدہ لطائف کا نشانہ بنایا گیا جب کہ ایک چوتھائی کو ان کی مرضی کے بغیر چھوا گیا۔

ٹی یو سی کی سربراہ فرانسس او گریڈی کا کہنا ہے کہ ایسی متاثرہ خواتین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ خوفزدہ بھی ہوئیں۔اوگریڈی نے اسے سکینڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند خواتین نے محسوس کیا کہ ان کے مالکان اس مسئلے سے پوری طرح نمٹ رہے تھے۔آزاد خیال مغربی معاشرے میں خواتین پر جنسی تشد دکے واقعات کو عمومی طور پر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی وجہ سے درست اعداد وشمار سامنے نہیں آپاتے امریکا میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بڑی تنظیم نیشنل آرگنائزیشن فار وویمن کے مطابق امریکا میں خواتین خصوصا کم عمر بچیوں پر جنسی تشد د کے واقعات میں گزشتہ چند سالوں میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے- ٹی یو سی کا کہنا ہے کہ دفتروں میں کام کرنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے کئی طریقے ہیں جن میں اپنے ساتھی کی سیکس لائف کے بارے میں غیر مناسب تبصرے اور مذاق کرنا، انھیں ان کی مرضی کے بغیر چھونا، گلے لگانا یا بوسہ لینا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

10/08/2016 - 12:53:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان