قائمہ کمیٹی کی وزارت قو می صحت کو عدالتوں سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:55:52 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:55:52 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:54:46 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:40:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:40:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:40:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:36:08 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:36:06 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:31:43 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:31:43 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:30:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

قائمہ کمیٹی کی وزارت قو می صحت کو عدالتوں سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیسز پر حکم امتناع کے جلد خاتمے کیلئے موثر پیروی کی ہدایت

پاکستان میں 2فیصد سے زائد ادویات غیر معیاری اور جعلی ہیں ،یہ ادویات ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے راستے درآمد کی جاتی ہیں، مقرر کردہ قیمت سے زائد پر فروخت کرنے والوں کیلئے سزاؤں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ،ادویہ ساز ادارے کے مالک کو 1 کروڑ سے 10 کروڑ روپے جرمانہ اور تین سال قید اور ڈسٹری بیوٹر کو ایک لاکھ سے دس لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال قید ری ٹیلر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کا قانون بنایا جا رہا ہے، جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے تھری ڈی (ڈی کوٹنگ) کی جا رہی ہے ،دوائی خریدنے والا اپنے موبائل سے ڈی کوٹنگ کے ذریعے دوائی کو چیک کر سکے گا ،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اگست ۔2016ء )قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قو می صحت نے وزرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتوں سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیسز پر حکم امتناعی کے خاتمے کے لئے موثر پیروی کی ہدایت کی تاکہ غریب عوام کو سستے داموں فراہم کی جائیں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈریپ)کے سی ای او نے انکشاف کیاکہ پاکستان میں 2فیصد سے زائد ادویات غیر معیاری اور جعلی ہیں اور یہ ادویات ہمسایہ ممالک سے افغانستان کے راستے درآمد کی جاتیں ہیں مقرر کردہ قیمت سے زائد پر فروخت کرنے والوں کے لیے سزاؤں میں اضافہ کیا جا رہا ہے ،ادویہ ساز ادارے کے مالک کو 1 کروڑ سے 10 کروڑ روپے جرمانہ اور تین سال قید اور ڈسٹری بیوٹر کو ایک لاکھ سے دس لاکھ روپے جرمانہ اور دو سال قید ری ٹیلر کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید کا قانون بنایا جا رہا ہے جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے تھری ڈی (ڈی کوٹنگ) کی جا رہی ہے ،دوائی خریدنے والا اپنے موبائل سے ڈی کوٹنگ کے ذریعے دوائی کو چیک کر سکے گا کہ دوائی جعلی ہے یا اصلی ،کم استعمال ہونے والی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی قیمتیں انڈیا اور بنگلہ دیش کے برابر کی جا رہی ہیں تا کہ یہ ادویات مارکیٹ میں بلیک نہ کی جا سکیں ،منگل کوقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین خالد مگسی کی زیر صدارت ہوا ، تلاوت قرآن کے بعد قاری محمد یوسف نے سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لیے دعا کروائی، کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈریپ کے سربراہ نے بتایا کہ عالمی فورم پر پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ سب سے غیر معیاری اور جعلی ادویات پاکستان میں موجود ہیں جس پرانہوں نے عالمی فورم پر بتایا کہ پوری دنیا میں ایک سو سے دوسو بلین ڈالرز کی غیر معیاری اور جعلی ادویات پائی جاتی ہیں جب کہ پاکستان کی پوری مارکیٹ تین بلین ڈالر کی ہے ،وزیر مملکت برائے صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ متبادل ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کے شعبہ جات تو موجود تھے لیکن ان کے قوانین موجو د نہیں تھے جو ہم نے آکر بنائے ،قانون موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادویات کے معیار کو بہتر بنانے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/08/2016 - 21:40:05 :وقت اشاعت