پاکستان اور سعودی عرب کا دشمن ایک ہے‘ دہشتگردی کے عالمی مسئلے کے حل کیلئے مسلم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:17:15 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:17:15 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:03:26 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:03:26 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 21:03:26 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:55:34 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:53:26 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:53:26 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:52:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:46:47 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 20:40:25
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پاکستان اور سعودی عرب کا دشمن ایک ہے‘ دہشتگردی کے عالمی مسئلے کے حل کیلئے مسلم ممالک کو ایک صفحہ پر آنا ہو گا‘امام مسجد نبویؐ

الشیخ یاد الشکری کا 39ویں سالانہ دعوت اسلامی کانفرنس بسلسلہ عظمت حرمین شریفین سے خطاب , اسلام امن کا دین ہے ،امن کی دعوت سے پھیل رہا ہے مگر اسے بندوق،بموں اور جہازوں کے زور سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے‘ساجد میر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اگست ۔2016ء)مسجد نبوی کے امام وموزن الشیخ یاد الشکری نے کہا ہے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے، حل کے لیے مسلم ممالک کو ایک صفحہ پر آنا ہو گا، پاکستان اور سعودی عرب کا دشمن ایک ہے، شام میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، امت مسلمہ مختلف النوع مسائل کاشکار ہے ،مسلمان دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درپیش مسائل کا معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کی جدو جہد میں امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزکا سامناکر نے کے لیے موثر عقلی فکری اور عملی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیں ،ملت اسلامیہ کو اس وقت چیلنجزکاسامنا ہے۔

ان خیالات کا اظہار ا نہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث برمنگھم کے زیر اہتمام گرین لین مسجد میں39ویں سالانہ دعوت اسلامی کانفرنس بسلسلہ عظمت حرمین شریفین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجدمیر مہمان خصوصی تھے۔ الشیخ یاد الشکری نے مزید کہا کہ امت مسلمہ ایک جسد واحد کی حیثیت رکھتی ہے اور جب بھی اس نے راہ وسط و اعتدال چھوڑ دی تو باہم رنجشوں چپقلشوں اور افتراق وانتشار کی شکاری ہوئی، امت مسلمہ صرف قرآن و سنت کو محورو مرکز جان کرآگے بڑھ سکتی ہے۔

تشدد کی بجائے مکالمے سے دعوت پھیلائیں۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی سے مسلمانوں اور اسلام کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔سینیٹر پروفیسر ساجدمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام تلوار کے زور پر نہیں حسن اخلاق سے پھیلا، یہ مسلمانوں کے متعلق روایتی تعصب پر مبنی کہانیاں ہیں کہ جس میں تلوار کے زور کا شور ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ سپین میں مسلمان آٹھ سو سال تک بر سر اقتدار رہے مگر کوئی قتل عامنہیں ہوا مگر اس کے بر عکس مسلمانوں کا قتل عام اس وقت بھی کیا گیا اور آج بھی مختلف ممالک میں جاری وساری ہے۔عرب ممالک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد صرف عیسائی آباد ہیں اگر بزور تلوار اسلام کی اشاعت ہوتی تو وہ کیسے اسلام قبول کئے بغیر رہ گئے۔انڈیا میں مسلمان ایک ہزار سال حکومت میں رہے مگر اس کے باوجود یہاں ہندووں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/08/2016 - 20:55:34 :وقت اشاعت