پولیس کو سیاست سے پاک ، میرٹ پر بھرتی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، آئی جی سندھ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:48:33 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:48:33 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:44:55 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:44:55 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:42:54 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:42:54 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:25:37 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:25:37 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:19:24 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:18:15 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 17:16:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پولیس کو سیاست سے پاک ، میرٹ پر بھرتی یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، آئی جی سندھ

سندھ پولیس میں بھرتیاں این ٹی ایس کے ذریعے ہوں گی،آرمی سے مددلی جائے گی، اے ڈی خواجہ , پولیس کی صلاحیتیں رینجر ز کے مساوی ہونے تک کراچی آپریشن جاری رکھا جائے،سراج قاسم تیلی کا تقریب سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اگست ۔2016ء)انسپکٹر جنرل پولیس سندھ اے ڈی خواجہ نے اگلے 3ماہ کے اہداف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح محکمہ پولیس کو سیاست سے پاک اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے آرمی کے تعاون سے اور این ٹی ایس کا امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کو میرٹ پر محکمہ پولیس میں بھرتی کیاجائے گا۔

یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہی۔ اس موقع پرچیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم جی ) و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،وائس چیئرمین بی ایم جی و سابق صدر کے سی سی آئی ہارون فاروقی، صدر کے سی سی آئی یونس محمد بشیر، سینئر نائب صدر ضیاء احمد خان، سابق صدر کے سی سی آئی اے کیو خلیل، کے سی سی آئی کی خصوصی کمیٹی برائے اسمال ٹریڈرز کے چیئرمین مجید میمن،پی سی ایل کمیٹی کے چیئرمین حفیظ عزیز، منیجنگ کمیٹی کے اراکین اور چھوٹے تاجروں کے نمائندے بھی شریک تھے۔

آئی جی سندھ نے کہاکہ پولیس اس وقت تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکتی جب تک اسے مکمل طور پر سیاست سے پاک نہیں کرلیاجاتا۔انہوں نے کہاکہ پولیس ہیلپ لائن 15 زیادہ مؤثر نہیں اسے مزید بہتر بناتے ہوئے اسٹیٹ آف دی آرٹ سہولت متعارف کروائی جائے گی جبکہ ٹوٹے ہوئے اور ناکارہ کیمروں کو اگلے تین ماہ میں تبدیل کرتے ہوئے شہر بھر میں فعال بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت زیادہ میگا پکسل والے کیمروں کی تنصیب اور موجودہ کیمروں کو اپ گریڈ کرنے پر غور کررہی ہے لیکن اس میں ایک سال لگ سکتا ہے تاہم اگلے تین ماہ کے دوران موجودہ کیمروں کو فعال بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔انہوں نے تاجربرادری کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آگے آئیں اور متعلقہ مارکیٹوں میں کیمروں کی تنصیب کے حوالے سے محکمہ پولیس کی مدد کریں نیز نجی محافظوں کی خدمات حاصل کریں تاکہ محکمہ پولیس کی امن قائم کرنے کی کوششوں میں اضافی مدد مل سکے۔

آئی جی سندھ نے تاجربرادری کی جانب سے پولیس افسران کی تعداد میں اضافے کے مطالبے پر اعتراف کیا کہ 25ملین آبادی کے شہر کراچی میں امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے افسران کی تعداد انتہائی کم ہے جس میں اضافے کی ضرورت ہے۔کراچی میں قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے کم ازکم 20ہزار پولیس افسران کی ضرورت ہے تاہم عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لئے سندھ حکومت کوفل الحال کراچی میں 10پولیس افسران کی فوری بھرتی کے لیے تجاویز ارسال کردی گئی ہیں۔

آئی جی سندھ نے کہاکہ کراچی بھر میں بڑے پیمانے پر ٹریفک کوکنٹرول کرنے کے لیے صرف 2200ٹریفک افسران ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جو شہر کے مختلف حصوں میں ٹریفک جام کی بنیادی وجہ ہے تاہم اب صورتحال یقینی طور پر بتدریج بہتر ہوگی کیونکہ 4700ٹریفک افسران کو بھرتی کیا گیاہے جو اگلے 6 سے 8 ماہ میں اپنی تربیت مکمل کر کے کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کو کنٹرول کرتے نظر آئیں گے جس سے ٹریفک کی بلا رکاوٹ روانی ممکن بنائی جاسکے گی۔

انہوں نے کراچی چیمبر سے کہاکہ وہ پولیس کے متروک قوانین اور پولیس ایکٹ1861 کی تبدیلی کے حوالے سے سندہ حکومت کو قائل کرنے میں مدد کریں جس سے یقینی طور پرشہر میں پولیس کو فعال بنانے کے ساتھ ساتھ کئی مسائل سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔پولیس ایکٹ 1861 بہت کمزور اور غیرمؤثر ہو چکا ہے لہٰذا نئے نظام اور قوانین کو وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جرائم سے مؤثر طریقے سے نمٹا جاسکے۔

انہوں نے شہادتوں کی کمی کی وجہ سے مجرموں کی رہائی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ محکمہ پولیس نے 2013سے 2016کے درمیان 80ہزار عناصر کو گرفتار کیا لیکن مجرموں کی شناخت کے لیے گواہوں کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے کئی مجرم چند ماہ میں ہی رہا ہو گئے جو اسٹریٹ کرائمز میں اضافے کے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں۔انہوں نے عوام پر زوردیتے ہوئے کہاکہ وہ آگے آئیں اور بلا خوف و خطر مجرموں کی شناخت میں پولیس کے ساتھ تعاون کریں جس کے نتیجے میں صورتحال بہتر ہوگی اور نشاندہی کی صورت میں ایسے عناصر کم ازکم 4سال یا پھر اس سے بھی زائد مدت کے لیے سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ سی آر پی سی کے سیکشن59اور پی پی سی کے سیکشن100،101 شہریوں کواپنی حفاظت کا حق دیتا ہے جو مجرمانہ سرگرمی کی صورت میں اپنی جان کے تحفط کے لیے لائسنس یافتہ اسلحے کا استعمال

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/08/2016 - 17:42:54 :وقت اشاعت