شاہراہ ریشم کی اقتصادی پٹی کا فورم رکن ملکوں کو مشترکہ ترقی کے راستے پر متحد کرنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 15:28:25 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 15:15:18 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 15:08:57 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 15:08:56 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 15:08:56 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:57:07 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:57:07 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:57:07 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:57:02 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:56:21 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:56:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

شاہراہ ریشم کی اقتصادی پٹی کا فورم رکن ملکوں کو مشترکہ ترقی کے راستے پر متحد کرنے کا پلیٹ فارم ہے، فورم میں مزید ملک شامل اسکے اثرات وسیع ہونگے ،فورم علاقائی تعاون میں اہم کردار ادا کریگا

پاک چین اقتصادی راہداری کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید کا فورم سے خطاب

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست ۔2016ء ) پاک چین اقتصادی راہداری کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ شاہراہ ریشم کی اقتصادی پٹی کا فورم متعلقہ ملکوں کو مشترکہ ترقی کے راستے پر متحد کرنے کا پلیٹ فارم ہے، فورم میں ایران اور قازقستان بھی شامل ہو رہے ہیں، فورم کے اثرات مزید وسیع ہونگے اور خطے کے علاقائی تعاون میں زیادہ اہم کردار ادا کریگا۔

منگل کو چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق شاہراہ ریشم کی اقتصادی پٹی کا فورم چین کے صوبے سینجیانگ کے شہر کرامے میں شروع ہو گیا ہے اس تین روزہ فورم میں چین ،پاکستان ایران اور قازقستان سے آنے والے چار سو سے زیادہ سیاستدان، تھنک ٹینکس کے نمائندے اور صنعتی و کاروباری اداروں کے نمائندے ، معیشت کی شراکت داری ، بنیادی تنصیبات کی تعمیر، توانائی ، انفارمیشن ،اقتصادی زون، شہروں کی تعمیر اور ماحول اور ثقافتی تبادلوں کے بارے میں تبادلہ خیال اور باہمی تعاون کے امکانات پر بات چیت کریں گے۔

فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی پارلیمنٹ میں چین پاک اقتصادی راہداری کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان سے آنے والے پچاس صنعتکار اور متعلقہ شعبوں کے نمائندے موجودہ فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ چین ،پاکستان، ایران اور قازقسستان سمیت متعلقہ ملکوں کے درمیان تعاون اور تبادلوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ فورم متعلقہ ملکوں کو مشترکہ ترقی کے راستے پر متحد کرنے کے ایک پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔موجودہ فورم میں ایران اور قازقستان بھی شامل ہو رہے ہیں یوں اس فورم کیاثرات زیادہ وسیع ہونگے اور خطے کے علاقائی تعاون میں زیادہ اہم کردار ادا کریگا۔یادرہے کہ گزشتہ سال کے کرامے فورم کے دوران چین اور پاکستان نے تعاون کی بیس سے زیادہ یادداشتیں اور معاہدے طے کئے۔

جو توانائی، صنعتی زون کی تعمیر، تعلیم و تربیت، طب و صحت، زراعت، اور ثقافت سمیت شعبوں سے متعلق ہیں۔جن کی کل مالیت دس ارب یوآن سے زیادہ رہی۔توقع ہے کہ موجودہ فورم کے بعد دونوں ملکوں کے تعاون کے پیمانے کو زیادہ وسعت دی جائیگی اور متعلقہ ملکوں کو مشترکہ ترقی کے زیادہ مواقع حاصل ہونگے۔چین پاک دوستی کی انجمن کے سربراہ، اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل شا زو کھان نے بھی فورم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
09/08/2016 - 14:57:07 :وقت اشاعت