سانحہ کوئٹہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے،وزیراعظم کو انٹیلی جنس اداروں کو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:56:21 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:56:21 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:56:21 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:54:31 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:54:31 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:54:31 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:51:45 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:50:22 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سانحہ کوئٹہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے،وزیراعظم کو انٹیلی جنس اداروں کو حکم دینا چاہیے کہ وہ ملزموں کا تعین کریں ،سماج دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں،سرکاری تقریبات میں وہ لوگ پہلی نشستوں پر موجود ہوتے ہیں جنہیں جیل میں ہونا چاہیے،دوسرے ملکوں کی پراکسی وار پاکستان میں لڑنے سے اجتناب ،کوئٹہ پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر بحث کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے،وزیراعظم کو انٹیلی جنس اداروں کو حکم دینا چاہیے کہ وہ ملزموں کا تعین کریں ،سماج دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں،سرکاری تقریبات میں وہ لوگ پہلی نشستوں پر موجود ہوتے ہیں جنہیں جیل میں ہونا چاہیے،دوسرے ملکوں کی پراکسی وار پاکستان میں لڑنے سے اجتناب ،کوئٹہ پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے،وزیرتعمیرات و مکانات اکرم درانی نے کہا کہ ہمیں اپنے دشمنوں کا نام اشاروں میں نہیں بلکہ کھلم کھلا لینا چاہیے،میڈیا،فوج اور سیاستدانوں کو لڑانے کی سازش کر رہا ہے،میڈیا کو یہ سرٹیفکیٹ کس نے دیا ہے کہ وہ سیاستدانوں کو غداری کا سرٹیفکیٹ دیں،پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہے تاکہ یہ نہ ہوکہ قوم اسے ہماری مجرمانہ غفلت سے تعبیر کرے۔

میاں عبدالمنان نے کہا کہ آج ہم دنیا میں ناکارہ قوم کی طرح مشہور ہیں الزام تراشیوں پر ہمیں نوبل انعام ملنا چاہیے۔منگل کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق کی زیرصدات ہوا،اجلاس میں سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے بحث ہوئی اور معمول کی ایوان کی کارروائی معطل رہی،اس موقع پر امجد خان نیازی نے سانحہ کوئٹہ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دہشتگردی کے خلاف موثر پالیسی بنانی ہوگی۔

مولانا گوہر شاہ نے کہا کہ دہشتگردی قابل مذمت ہے،صوبائی حکومتوں کو پولیس کی تربیت کرنی چاہیے۔میاں عبدالمنان نے کہا کہ تمام جماعتوں کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جانا ضروری ہوگیا ہے،آج ہم دنیا میں ناکارہ قوم کی طرح مشہور ہیں،ہمیں ہماری الزام تراشی کی سیاست پر نوبل انعام دیا جانا چاہیے۔پارلیمانی لیڈر پیپلزپارٹی نوید قمر نے کہا کہ اس اہم بحث کے موقع پر وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کو موجود ہونا چاہیے اور پالیسی بیان دینا چاہیے۔

اسپیکر نے کہاکہ وزیر مملکت موجود ہیں جواب میں نوید قمر نے کہا کہ حکومتی اولین نشستوں پر کوئی نہیں ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کوئٹہ میں ہرجگہ قانون نافذ کرنے والوں کے اہلکار موجود ہیں،12گلیوں کا کوئٹہ شہر بھی سنبھالا نہیں جارہاہے،یہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے،ایک ماہ پہلے لاء کالج کا پرنسپل کو قتل کیا گیا اس کے قاتل ابھی تک نہیں پکڑے جاسکے،ہمارے ملک کے دشمن عناصر ہماری ایجنسیوں کے پے رول پر ہیں،سرکاری تقریبات میں وہ لوگ اگلی نشتوں پر بیٹھے ہوتے ہیں ان کو جیل میں ہونا چاہیے،آج فیصلہ کردیا جائے کہ ہم کسی ملکی کی پراکسی وار نہیں لڑیں گے،ملک میں امن ہوجائے گا،وزیراعظم انٹیلی جنس اداروں کو حکم دیں کہ تحقیقات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/08/2016 - 14:54:31 :وقت اشاعت