افغان صدرکی کوئٹہ خودکش دھماکے کی شدید مذمت ، قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:38:14 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:37:23 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:37:23 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:37:23 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:31:34 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:24:13 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:13:41 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:11:51 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:09:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

افغان صدرکی کوئٹہ خودکش دھماکے کی شدید مذمت ، قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست ۔2016ء) افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت اور قیمتی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کی موت کے سوگ میں جمع عوام پر دہشتگرد حملہ کیاہے ،دہشتگرد حملے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جو کسی بھی مذہب یا قانون میں جائز نہیں ہے، افغان حکومت قومی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی کی سرگرمیوں کوروکنے کیلئے پرعزم ہے۔

منگل کو افغان میڈیاکے مطابق صدر اشرف غنی نے اپنے بیان میں کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کی اور کہاکہ اسلام اور انسانیت کے دشمنوں نے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کی موت کے سوگ میں جمع عوام پر دہشتگرد حملہ کیاہے ۔دہشتگرد حملے میں عوام کو نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جو کسی بھی مذہب یا قانون میں جائز نہیں ہے ۔

اپنے بیان میں اشرف غنی نے کہاکہ افغان حکومت قومی اور علاقائی سطح پر دہشتگردی کی سرگرمیوں کوروکنے کیلئے پرعزم ہے ۔انکا کہنا تھاکہ حکومت اچھے اور برے کے درمیان فرق کیے بغیر تمام دہشتگرد گروپوں کے خلاف برسر پیکار ہے اور دوسروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ تمام دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کی جائے ۔دہشتگردی کا کسی بھی مذہب ،قانون ،نسل یا قومیت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اسکے کیلئے کوئی عزت ہے ۔

افغان صدر نے دھماکے میں مرنے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اس وقت خودکش دھماکہ کیا گیا جب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر کے قتل کے بعد بڑی تعداد میں وکلاء ،صحافی اور دیگر افراد وہاں جمع تھے ۔دھماکے میں 70سے زائد افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوگئے تھے ۔
09/08/2016 - 14:37:23 :وقت اشاعت