سابق کرکٹرز تیسرے ٹیسٹ ناکامی پر قومی ٹیم اور مینجمنٹ پر برس پڑے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:36:27 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:36:24 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:36:20 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:35:09 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:35:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:35:02 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:03:34 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:03:30 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 14:03:28 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 13:59:34 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 13:59:31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

سابق کرکٹرز تیسرے ٹیسٹ ناکامی پر قومی ٹیم اور مینجمنٹ پر برس پڑے

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 اگست ۔2016ء) سابق کرکٹرز وسیم اکرم ،وقار یونس ،راشد لطیف ،عامر سہیل اور شعیب اختر نے تیسرے ٹیسٹ ناکامی پر قومی ٹیم اور مینجمنٹ پر برس پڑے ،سابق کر کٹرز کا کہنا ہے کہ ٹیم کو عمر رسیدہ کھلاڑیوں سے جان چھڑانا ہوگی۔یونس خان بڑھتی عمر کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں،گیند کو میرٹ پر کھیلنے کے بجائے اچھل کود کررہے ہیں، ٹیل اینڈرزکی مزاحمت نے ثابت کردیا کہ تجربہ کار بیٹسمین ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے شکست ٹال سکتے تھے،محمد حفیظ کو ڈراپ کردینا چاہیے۔

کرکٹ کی باگ ڈور سنبھالنے والوں میں ضروری پلاننگ کیلئے سمجھ بوجھ نہیں ٹیم میں توازن لانے کیلیے اچھا آل راؤنڈر تیارکرنا ہوگا ۔ تفصیلات کے مطابق بیشتر سابق کرکٹرز کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کئی کمزور ستون قومی ٹیم کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہے، محسن خان کا کہنا ہے کہ ایجبسٹن میں صرف بیٹسمین ہی نہیں بولرز بھی ناکام ہوئے ہیں۔انگلینڈ نے خسارے میں جانے کے باوجود اچھا ٹوٹل جوڑ کر پاکستان کو دفاع پر مجبور کیا تو اس میں بولنگ اور فیلڈنگ دونوں قصووار ہیں، پانچویں روز مہمان بیٹسمین مزاحمت کرتے ہوئے میچ ڈرا کرسکتے تھے لیکن انھوں نے غلط اسٹروکس کھیل کر وکٹیں گنوادیں، اگلے ٹیسٹ میں حفیظ کو ڈراپ کردینا چاہیے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پانچواں بولر نہ ہونے کی وجہ سے انگلینڈ کو پاکستان کی برتری ختم کرنے میں آسانی ہوئی، اس خلا کو پر کرنے کیلیے ہمارے پاس اچھے آل راؤنڈرز نہیں ہیں، میچ کی چوتھی اننگز میں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

09/08/2016 - 14:35:02 :وقت اشاعت