دنیا کی سب سے بڑی واٹر سلائیڈ پر سیاستدان کا بیٹا ہلاک۔ تحقیقات جاری
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 09/08/2016 - 12:02:53 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:56:57 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:53:31 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:52:36 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:50:05 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:43:52 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:35:12 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:32:00 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:28:13 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:18:15 وقت اشاعت: 09/08/2016 - 11:18:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

دنیا کی سب سے بڑی واٹر سلائیڈ پر سیاستدان کا بیٹا ہلاک۔ تحقیقات جاری

نیویارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09اگست 2016ء ): دنیا میں خطرناک سے خطرناک جھولے اور کرتب کرنا نوجوان نسل کا خصوصی طور پر شیوہ ہوتا ہے۔ اسی شیوے کے ہاتھوں مجبور ایک نوجوان دنیا کی سب سے بڑی واٹر سلائیڈ پر گیا اورہلاک ہو گیا۔کینساس میں موجود ایک پارک میں دنیا کی سب سے بڑی واٹر سلائیڈ موجود ہے ۔ جس کی رفتار 70میٹر فی گھنٹہ جتنی ہے۔ہلاک ہونے والے 12سالہ لڑکے کی شناخت کیلب تھومس کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر سکاٹ شواب کا بیٹا تھا۔

مسٹر شواب نے غم کی اس گھڑی میں میڈیا سے پرائیویسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے جاری بیان میں کہا کہ پیدا ہونے سے لیکر اب تک کیلب تمام لوگوں میں خوشیاں بانٹتا آیا ہے۔ تاہم لڑکے کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے پارک کو دو دن کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ پارک کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم یہ بتاتے ہوئے نہایت رنجیدہ ہے کہ ایک لڑکا پارک کی واٹر سلائیڈ پر ہلاک ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی مکمل حفاظت ہماری اولین ترجیح رہی ہے لہٰذا ہم نے پارک اور بالخصوص اس جھولے کو تحقیقات مکمل ہونے پر سیل کر دیا ہے۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہماری ہمدردی مکمل طور پر ہلاک لڑکے کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ مذکورہ واٹر سلائیڈ مجسمہ لبرٹی سے بھی اونچی ہے اس واٹر سلائیڈ کی اونچائی کم از کم 54انچ ہو گی۔ یہاں آنے والے تمام سیاح اس کی 17منزلہ اونچائی پر پہنچنے کے لیے264قدم چلتے ہیں۔ اس کا آغاز دو سال قبل 2014میں جولائی کو کیا گیا تھا۔

09/08/2016 - 11:43:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان