کوئٹہ میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:21:54 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:18:01 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:17:36 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:17:36 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:14:14 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:13:55 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:13:55 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:13:55 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:12:44 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:12:44 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 22:11:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

کوئٹہ میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام پر حملہ ہے

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق،جماعت الدعوۃ کے امیرحافظ محمد سعید و دیگر رہنما ?ں کا منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور دیگر مذہبی رہنما?ں نے کوئٹہ کے اندر ہونے والے دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ حملہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام پر حملہ ہے۔اس بدترین اور اندوہناک واقعہ کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت سورہی ہے۔

حکومت کا ذاتی ایجنڈا اپنی مدت پوری کرنا ہے عوام مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔15 اگست کو مظفر آباد سے چکوٹھی تک مارچ کریں گے اور کشمیریوں کو بتائیں گے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہاء نہیں ہیں۔ وہ پیر کواسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’عالمی دہشت گردی اور پاکستان‘‘کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

سراج الحق نے کہاکہ عوام مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہیں بلوچستان حکومت تمام سٹیک ہولڈز کو جمع کرے اور ملک سے باہر بیٹھے بلوچ رہنما?ں سے بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارتی مداخلت کھل کر سامنے آ گئی ہے آج کے دھماکے میں بھی ’’را‘‘اور ’’خاد‘‘ کا ہاتھ ہے۔پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے حکومت کو واضح طور پر دہشت گردی ختم کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے حکومت ہمیں بتائے کہ شہری اور کیا کریں۔

کیا ہم اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں،اپنے دفاتر میں نہ جائیں اور اپنے کاروبار بند کردیں۔جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی خواہ وہ کسی کی بھی ہو اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جاری مسلح،معاشی اور سیاسی دہشت گردی سب ایک ہی ہیں۔پاکستان کو غریب عوام نے بنایا۔ 68 سالوں سے حکمرانوں نے ملک کو اس کے نظریے سے محروم کر رکھا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی نظام کو بھی امیروں اور غریبوں میں تقسیم کر دیاگیا ہے۔جہاں 45 ہزار بچے اولیول اور 42 لاکھ بچے میٹرک کی کلاس میں زیر تعلیم ہیں کیا بچوں کو تقسیم کرنا دہشت گردی نہیں ہے۔ملک کی اندرونی دہشت گردی بیرونی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔حکمرانوں کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دولخت ہوا۔پوری قوم خوف میں مبتلا ہے۔ہم پر کسی نے حملہ نہیں کیا پھر بھی ہمارے 65ہزار معصوم شہری شہید ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی دہشت گردی ہے کہ 98فیصد وسائل پر 2 فیصد کا قبضہ ہے۔جب تک ہمارا گھر ٹھیک نہیں ہو گا ہم بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کے دینی جماعتیں ایک بڑی طاقت ہے انہیں اختلافات کو بھلا کر آگے آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے وزیراعظم نواز شریف نے پانامہ لیکس پر تین دفعہ قوم سے خطاب کیا لیکن مقبوضہ کشمیر کے قتل عام پر حکومت نے عوام کے سامنے حقائق رکھنے کی جرات نہیں کی جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ترجیح اول ہی نہیں ہے۔

15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کشمیریوں نے یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔ہم مظفر آباد سے چکوٹھی تک مارچ کریں گے اور کشمیریوں کو بتائیں گے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہاء نہیں ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ ترکی میں بغاوت کی ناکامی پر وہاں کے حکمرانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے ڈٹ جائیں پوری امت ان کے ساتھ ہے۔

حکومت ملک میں بچوں کے اغواء کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ آج مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے صرف یوم سیاہ منا کر ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔

حکمران فعال کردار ادا کریں۔عوامی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 22:13:55 :وقت اشاعت