ایچ آر سی پی کی کوئٹہ سانحے کی مذمت، حکومت سے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:23:09 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:23:09 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:23:09 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:20:13 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:18:39 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:17:28 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:16:30 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:16:30 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:16:30 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:14:53 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:14:53
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

ایچ آر سی پی کی کوئٹہ سانحے کی مذمت، حکومت سے شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

عوامی وسائل تمام شہریوں کی زندگی کے تحفظ پر صرف کیے جائیں، متاثرین کی فوری مناسب مالی معاونت کی جائے 'گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے پیر کو کوِئٹہ میں وکلا کے خلاف دو حملوں کی شدید مذمت کی ہے جن میں کم ازکم 53 افراد جاں بحق ہوئے۔ کمیشن نے حکومت کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردی اور منظم جرائم کے انسداد کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پیر کو جاری کئے گئے اپنے بیان میں کمیشن نے کہاکہ ایچ آر سی پی بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل اور کوئٹہ سول ہسپتال میں بم دھماکے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس میں اب تک 53 انسانی جانیں گئیں اور 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد وکلا کی ہے اس کے علاوہ صحافتی تنظیموں کے کم ازکم 2 کارکن بھی ہلاک ہوئے ہیں اور کئی ایک زخمی بھی ہوئے ہیں۔ وکلا پر اس طرح کا منظم حملہ قطعی طور پر ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ کوئٹہ میں اس سانحہ کے بارے میں ارباب اقتدار کے مذمتی بیان یا اسے محض کسی غیر ملکی خفیہ ادارے کی کارستانی قرار دینا نہ تو کافی ہے اور نہ ہی کسی مسئلہ کا حل۔

ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کرے خواہ ان کے خون کے درپے کوئی بھی ہو۔ لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ عوام کی حفاظت پر مامور ادارے اس وقت کہاں تھے جب اس سانحے کے منصوبہ ساز اور اس پر عملدرآمد کرنے والے خواہ وہ غیر ملکی ہوں یا پاکستانی اپنی مکروہ کارروائی میں مصروف تھے۔ حکومت پیر کے ہولناک واقعات کو ناقص حفاظتی اقدامات کہہ کراپنی ذمہ داری سے عہدہ براہ نہیں ہوسکتی اس کے لیے لازم ہے کہ وہ پیر کے واقعات کو روکنے میں اپنی ناکامی کی وجوہات کی وضاحت کرے۔

عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہئے کہ حکومت انسداد دہشت گردی کے نام پر کی جانے والی منصوبہ بندی کے تحت اس امر کو کیسے یقینی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 21:17:28 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان