دہشت گردی کیخلاف قوم متحد ہے ، کوئٹہ واقعہ جیسے بزدلانہ واقعات سے قوم کے اعتماد ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:07:14 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:06:59 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:05:45 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 21:05:45 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:50:55 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:48:45 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:48:27 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:43:07 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:43:07 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:38:22 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:38:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

دہشت گردی کیخلاف قوم متحد ہے ، کوئٹہ واقعہ جیسے بزدلانہ واقعات سے قوم کے اعتماد کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا،پوری قوم ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے،ارکان قومی اسمبلی

مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے سدباب کیلئے مذہبی رہنماؤں کو کردار ادا کرنا ہوگا،عبدالقادر بلوچ , دہشتگردی کے پس پردہ محرکات کو سمجھنے کیساتھ بھارت دگر پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے،صاحبزادہ طارق اﷲ، مولانا محمد خان شیرانی، عبدالوسیم کا سانحہ کوئٹہ پر قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)ارکان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف پوری قوم متحد ہے ، کوئٹہ واقعہ جیسے بزدلانہ واقعات سے قوم کے اعتماد کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا،پوری قوم ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ۔پیر کو قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر ہونیوالی بحث کا آغاز کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ ہر انسان کی جان بے انتہا قیمتی ہے۔

آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد ہم نے جو فیصلے کئے تھے ان کو ہمیں مدنظر رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اس وقت اے پی سی میں جو لائحہ عمل مرتب ہوا تھا حکومت کو بتانا چاہیے کہ ان فیصلوں پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساری اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ ہے۔ اس لعنت کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ کوئی دہشت گردی کی جرات نہ کرسکے۔

وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ جب تک ملک کا ہر شہری دہشت گردوں کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا یہ ہوگا کہ شرارت کہاں سے ہو رہی ہے۔ مذہب کا نام استعمال کرکے انتہا پسندی ہو رہی ہے، اس کے سدباب کے لئے مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مذہبی لیڈروں اور جماعتوں کو آگے آنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی اتحاد و یگانگت پیدا کرنی چاہئے۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کوئٹہ میں جس پیمانے پر دہشت گردی ہوئی ہے پوری قوم کو گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر صرف تعزیت اور مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم دہشت گردی کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایسے اقدامات ہونے چاہئیں کہ خودکش حملہ آور ایسی کارروائیوں کے لئے پہنچ ہی نہ سکیں۔ نیشنل ایکشن پلان بن گیا ہے مگر کریمنل جسٹس سسٹم پر کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ جب تک ہر سطح پر دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے گئے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ دہشت گردوں کی معصوم شہریوں تک رسائی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 20:48:45 :وقت اشاعت