الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے فنڈز میں خوردبرد کے کیس پر موقف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:33:10 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:29:23 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:29:22 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:23:53 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:14:19 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:14:03 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:11:39 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:09:24 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:09:24 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:06:44 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 20:06:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے فنڈز میں خوردبرد کے کیس پر موقف میں واضح تضاد

تحریک انصاف نے ایک جانب الیکشن کمیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ کمیشن کسی پارٹی کے فنڈز کے حوالے سے اس کا احتساب نہیں کر سکتا جبکہ دوسری طرف وہ پانامہ پیپرز پر وزیراعظم کی نااہلی کا موقف اختیار کیے ہوئے ہے , تحریک انصاف کے سابق مرکزی رہنما اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ میں خورد برد کے کیس کی سماعت 17اگست کو ہو گی

اسلام آباد ۔ 8 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء) الیکشن کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے فنڈز میں خوردبرد کے کیس پر موقف میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ تحریک انصاف نے ایک جانب الیکشن کمیشن میں موقف اختیار کیا ہے کہ کمیشن کسی پارٹی کے فنڈز کے حوالے سے اس کا احتساب نہیں کر سکتا جبکہ دوسری طرف وہ پانامہ پیپرز پر وزیراعظم کی نااہلی کا موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

تحریک انصاف کے سابق مرکزی رہنما اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ میں خورد برد اور امریکہ سے فنڈز منگوانے میں منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر دائر کیے گئے کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں 17اگست کو ہو گی جبکہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ پیشی پر واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے پارٹی فنڈز میں خوردبرد کے کیس میں اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ دائر ہونے کی وجہ سے مزید تاخیر نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت کے دوران یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ ایک طرف تحریک انصاف الیکشن کمیشن سے ریفرنس دائر کر کے یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ پانامہ پیپرز پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جائے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے پارٹی فنڈز کی جانچ پڑتال نہیں کر سکتا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ ستمبر 2011ء میں سامنے آیا جب پارٹی فنڈز میں بے قاعدگی اور دفتری ملازمین کے اکاؤنٹس میں پیسے ڈالے گئے جبکہ ستمبر 2011ء میں اس وقت کے سیکرٹری اکبر ایس بابر نے عمران خان کو خط لکھ کر اس کی نشاندہی کی کہ ہنڈی کے ذریعے غیرقانونی طور پر فنڈز ٹرانسفر کیے گئے ہیں۔

انہوں نے اس کے فرانزک آڈٹ اور پارٹی کے اندر احتساب کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تاہم تبدیلی کی باتیں کرنے والے عمران خان نے کرپٹ لوگوں کے خلاف کارروائی کی بجائے اکبر ایس بابر کو پارٹی سے نکال دیا۔ مارچ 2013ء میں اس معاملے کو انتخابات تک التواء میں رکھنے کی کوششوں کے پیش نظر عمران خان کے قریبی مبشر موڈی اور اس کے بہنوئی اکبر ایس بابر کے گھر آئے جہاں انہوں نے کمیشن بنانے کی بجائے ایک خصوصی آڈٹ کمپنی کے ذریعے آڈٹ کی پیشکش کی اور ایک کمپنی کی خدمات بھی حاصل کر لی گئیں تاہم مئی میں انتخابات ہونے کے بعد اس کمپنی سے تعاون نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے کوئی ریکارڈ فراہم کیا گیا۔

اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ان تمام رکاوٹوں کے باوجود دسمبر 2013ء میں اس آڈٹ کمپنی نے اپنی رپورٹ میں فنڈز کی منتقلی میں منی لانڈرنگ کا تذکرہ کیا ہے تاہم عمران خان نے کرپٹ لوگوں کو نشاندہی ہونے کے باوجود

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 20:14:03 :وقت اشاعت