٭٭٭٭٭پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار اور ہائیکورٹ بار کا سانحہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:32:39 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:28:58 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:27:17 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:25:05 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:04:17 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:04:17 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:54:59 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:53:51 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:52:18 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:50:49 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:49:13
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

٭٭٭٭٭پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار اور ہائیکورٹ بار کا سانحہ کوئٹہ کے خلاف ملک گیر ہڑتال ،یوم سوگ منانے کا اعلان

حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے ‘سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا سات روزہ سوگ کا اعلان , لاہور ہائیکورٹ بار کی احتجاجی ریلی ، اعلیٰ سطحی وفد بلوچستان کے وکلاء کیساتھ اظہار یکجہتی کے لئے کوئٹہ روانہ ہو گی ،تین روزہ سوگ کا اعلان ،وکلاء بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گےکل غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائیگی‘رانا ضیاء عبدالرحمن

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)پاکستان بار کونسل ، پنجاب بار کونسل ، سپریم بار ایسوسی ایشن اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحہ کوئٹہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال اور یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا ، وکلاء کل ( منگل ) احتجاجاً عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے جبکہ مختلف مقامات پر جاں بحق افراد کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئر مین ڈاکٹر فروغ نسیم اور چیئر مین ایگزیکٹیو کمیٹی عبد الفیاض نے سانحہ کو ئٹہ کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے اس واقعہ سے وکلاء کے حوصلے پست نہیں ہو نگے۔انہوں نے کہا کہ بار کونسل اس سانحہ کے خلاف (کل ) منگل کو ملک گیر ہڑتال کرے گی اور بارز میں مذمتی اجلاس منعقد کئے جائیں گے ۔

دہشت گردی کے واقعے کے خلاف احتجاجاً آج ملک بھر کے وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور واقعے کے خلاف سات روزہ سوگ بھی منایا جائے گا ۔پنجاب بار کونسل نے بھی سانحہ کوئٹہ کے خلاف 2روز ہڑتال کا اعلان کر تے ہوئے کہا کہ وکلاء 9اور 10اگست کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے ۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹرعلی ظفر نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔

یہ وکلاء پر نہیں بلکہ انصاف پر حملہ ہے ،اس کے ذریعے انصاف کے ادارے کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ، عوام کو انصاف کی فراہمی اور انکے حقوق کیلئے لڑتے ہیں ، جمہوریت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں اس لئے ایک سازش کے تحت انہیں کمزور کرنے کی سازش کی گئی ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ پہلے بھی ایسا ہوا لیکن ہم حوصلہ نہیں ہاریں گے ، کمزور نہیں ہوں گے بلکہ مزید طاقتور ہوں گے اور وکلاء کو کمزور کرنے کی کوشش ناکام بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں کا ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں جس میں لانگ ٹرم منصوبہ بندی کی جائے گی کیونکہ ایک واقعہ ہوتا ہے جس میں بچے ، بوڑھے ، خواتین ،وکلاء شہید ہوتے ہیں ایک اجلاس ہوتا ہے میڈیا میں چار روز چلتا ہے اور پھر ایک اور واقعہ ہو جاتا ہے ۔ لاء اینڈ آرڈر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ ہر شہری کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے ۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو اگلا الیکشن نہ لڑے اور ان کو آنے دے جو قوم کو تحفظ فراہم کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی وکلاء تنظیم کے صدر کو بڑی دیر سے دھمکیاں مل ہو رہی تھیں لیکن انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔ وکلاء انصاف کے ادارے کے ستون ہیں انہیں بھی اسی طرح تحفظ ملنا چاہیے جس طرح سیاستدانوں اور ججز صاحبان کو مل رہا ہے ۔

ہم صرف وکلاء کے لئے نہیں بلکہ ایک عام شہری کے لئے بھی حکمت عملی بنانے جارہے ہیں ۔ ہم چار روزہ سوگ کے بعد اس معاملے کو چھوڑ نہیں دیں گے، شہیدوں کا خون ضائع نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگرد تو یہی چاہتے ہیں کہ انصاف کی فراہمی کا سلسلہ رک جائے لیکن ہم انصاف کی فراہمی کے لئے ڈیوٹی دیتے رہیں گے بیشک ہمیں مشکلات کا

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 19:04:17 :وقت اشاعت