بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:07:04 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:05:21 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:05:21 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:05:21 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:04:17 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:02:35 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:02:35 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 19:02:35 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:54:59 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:54:59 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 18:53:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیا

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)بینکوں نے مالی سال 16 میں598.3 ارب روپے کا زرعی قرضہ تقسیم کیاہے جو 600 ارب روپے کے مجموعی سالانہ ہدف کا تقریبا 100 فیصد اور مالی سال 15 میں تقسیم کیے جانے والے 515.9 ارب روپے کے قرضوں کے مقابلے میں16 فیصد زیادہ ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حقیقی شعبے کے متعدد عوامل کے باعث زرعی شعبے میں منفی نمو کے باوجود گذشتہ چند برسوں سے زرعی فنانسنگ میں اضافہ ہو تا رہا ہے۔

زرعی قرضوں کے واجب الادا جزدان میں بھی 32.3 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جو آخر جون 2015 کے 313.3 ارب روپے سے بڑھ کر آخر جون 2016 میں345.6 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ سال کے دوران اس میں 10.3 فیصد نمو ہوئی۔بینکوں کی جانب سے جن کاشت کاروں کو خدمات مہیا کی گئیں ان کی تعداد 2.2 ملین سے بڑھ کر 2.4 ملین تک پہنچ گئی ہے۔فنانسنگ کے مسائل اور حقیقی شعبے کی دشواریوں کی وجہ سے زرعی قرضوں کی تقسیم کے ہدف کا حصول ایک مشکل کام تھا جن میں اہم نقد فصلوں خصوصا کپاس کی پیداوار میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی، زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اتار چڑھا و، مارکیٹنگ کے روابط میں فرق اور زرعی قرضوں کے متعلق بینکوں میں بلند خطرے کا تصور وغیرہ شامل ہیں۔

بجٹ میں اعلان کردہ بعض اقدامات پر عملدرآمد کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کی جانب سے زرعی قرضوں کی تقسیم کے لیے مقررہ ہدف کے حصول کے لیے مربوط کوششیں کی ہیں۔ ان کوششوں میں سازگار ضوابطی ماحول کی فراہمی، بینکوں کو یہ باور کرانا کہ زرعی فنانسنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے، فنانسنگ کے نئے ذرائع دریافت کرنا جن میں زرعی ویلیو چین فنانسنگ، گودام رسید فنانسنگ، چھوٹے و پسماندہ کاشت کاروں کے لیے قرضہ ضمانت اسکیم پر عملدرآمد اوربینکوں کی قرض دینے کی کارکردگی کی سخت نگرانی شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک حکومت کی مسلسل اعانت اور گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا اور ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد کے قائدانہ کردار کی بدولت بینکوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدگی سے کارکردگی کے نظرثانی اجلاسوں کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کرسکا ہے۔گورنر اور ڈپٹی گورنر نے بینکوں کے صدور/سی ای اوز کو اپنے اہداف کے حصول پر مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اس شعبے کے معاشی نمو، روزگار اور برآمدات میں اہم کردار کے پیش نظر زرعی قرضوں کی فراہمی میں مزید

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

08/08/2016 - 19:02:35 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان