پاور سیکٹر کے بقایا جات تین سالوں میں مزید250ارب روپے بڑھ گئے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر اگست

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:46:11 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:43:03 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:37:35 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:37:33 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:37:31 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 16:30:14 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 15:32:47 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 15:29:59 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 15:28:02 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 15:24:56 وقت اشاعت: 08/08/2016 - 15:24:55
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاور سیکٹر کے بقایا جات تین سالوں میں مزید250ارب روپے بڑھ گئے

بڑا مجر م پرائیویٹ سیکٹر ہے، اس کے ذمہ 468ارب روپے ہیں، رپورٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 اگست۔2016ء)توانائی بحران پر قابو پانے اور پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر سے بقایا جات کی وصولی کے دعوؤں کے باوجود ان بقایا جات میں مزید253-69ارب روپے اضافہ ہو گیا ہے اور یہ اضافہ جون2013ء سے لیکر جون 2016کے درمیان سامنے آیا ہے ۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے حالیہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جب پاکستان مسلم لیگ نے2013ء میں اقتدار سنبھالا تو انرجی سیکٹرز کے بقایا جات384.109ارب روپے تھے جو رواں سال جون تک دوگنے ہو کر637.76ہو گئے۔

وزارت پانی و بجلی کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ بڑا مجرم پرائیویٹ سیکٹر ہے جس کے ذمہ 468ارب روپے واجب الادا ہیں جب حکومتی سیکٹرز کو 169ارب روپے واپس ادا کرنے ہیں ۔ وزارت پانی و بجلی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ قابل وصول پیسے کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ جس طرح یہ باہر سے نظر آتا ہے اور اس کے لئے پالیسی فیصلوں کی ضرورت ہے جس کو سابقہ حکوتموں نے توجہ نہیں دی اور فیصلے نہیں کئے۔ مثال کے طور پر آزاد کشمیر اور کے پی کے حکومتوں کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں تاہم ان کے بقایا جات بڑھ گئے کیونکہ کو ابھی تک فنڈز ٹرانسفر نہیں کئے گئے ہیں
08/08/2016 - 16:30:14 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان