حکومت سندھ کی دلچسپی کے سبب صحت کے شعبے میں دیگر صوبوں سے ذیادہ ترقی حاصل کی ہے۔ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:42:00 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:42:00 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:40:56 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:40:56 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:40:56 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:39:34 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:37:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:37:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:35:24 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:35:24 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:34:02
- مزید خبریں

سکھر

حکومت سندھ کی دلچسپی کے سبب صحت کے شعبے میں دیگر صوبوں سے ذیادہ ترقی حاصل کی ہے۔ صوبائی وزیر صحت

سکھر ۔ 18مارچ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 مارچ۔2016ء)وزیر صحت سندھ جام مہتاب ڈھر نے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی دلچسپی اور سنجیدگی کے سبب صوبے میں صحت کے شعبے میں دیگر صوبوں سے ذیادہ ترقی ہو ئی ہے اور پبلک سیکٹر میں ڈائلاسزاور ٹرانسپلانٹیشن کی شروعات حکومت سندہ ہی کا کارنامہ ہے۔SIUTکے ہونیوالے پروگرام میں پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان صوبوں کے وزراء کو مدعوکیا جائیگا ، جاری کردہ اعلامیہ کیمطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کوسندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن(SIUT)شبلانی سینٹرسکھر کے ہنگامی دورے کے دوران کیا۔

صوبائی وزیر نے اسپتال کے آپریشن تھیڑ اور مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور اسپتال میں جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ادیب رضوی ، کمشنر سکھر ڈویڑن محمد عباس بلوچ ، ڈائریکٹر سکھر آئی بی اے نثار احمد صدیقی اور دیگر بھی موجود تھے۔وزیر صحت سندھ جام مہتاب ڈھر نے ڈاکٹر ادیب رضوی کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت سندھ انسانیت کی بلا تفریق خدمت کرنے والے ادارے SIUT کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ 100ڈائلاسز مشینیں خرید رہی ہے جن میں سے 50مشینیں SIUT کو دی جائیں گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں موجودکروڑوں کی مالیت کی مشینری کو کارگر اور فعال بنانے اور ڈاکٹرز کو اپنی ڈیوٹیوں کا پابند کرنے کے لئے سنجیدہ کو ششیں کی جارہی ہیں اور ان کی جانب سے اسپتالوں کے ہنگامی دورے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پی پی حکومت صحت کے شعبے کو اولیت دے رہی ہے اس کی واضح مثال یہ ہے کہ گمبٹ کے سرکاری اسپتال میں جگر کی پیوند کاری کی جارہی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ادیب رضوی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی سندھ میں یہ پہلا تجربہ ہے کہ پانچ سال کے عرصے میں سکھر کے سینٹر نے بہت ترقی کی ہے اور اب SIUTشبلانی سینٹر سکھر 24گھنٹے کام کر رہا ہے ،روزانہ 900مریضوں کا ڈائلاسز کیا جارہا ہے اور او پی ڈی میں روزانہ چھ سے سات سو تک مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے جبکہ ایمرجنسی سروسز 24گھنٹے جاری ہیں اورماہانہ 30سے 40لاکھ روپیہ صرف جینریٹر سسٹم پر خرچ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ادیب رضوی نے بتایا کہ ملک میں 32فیصدڈائلاسزز اور75فیصد ٹرانسپلانٹیشن SIUTکر رہا ہے۔ ادارے میں بغیر رنگ اور نسل کی تفریق کے انسانیت کی خدمت کی جارہی ہے۔ پنجاب ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اورکشمیر سمیت افغانستان ، ایران اور دیگر ممالک کے لوگ بھی علاج کیلئے یہاں آتے ہیں اور یہ اعزاز سندھ کے حصے میں آیا ہے۔

18/03/2016 - 22:40:56 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان