سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بر قانون انصاف کا بلڈنگ کوڈ بارے رپورٹ کئی ماہ گزرنے کے باوجودپیش ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:22:44 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:20:31 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:05:42 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:01:36 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 22:01:36 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:58:57 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:58:56 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:56:01 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:56:01 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:56:01 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 21:54:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بر قانون انصاف کا بلڈنگ کوڈ بارے رپورٹ کئی ماہ گزرنے کے باوجودپیش نہ ہونے پربرہمی کا اظہار

آرٹیکل 182 پر اس وقت عمل کیا جاتا ہے جب ججوں کی تعداد پوری ہو ، ضرورت پڑنے پر عارضی طور پر اضافی ججوں کی تقرری عمل میں لائی جاتی ہے، سیکرٹری قانون کی کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 مارچ۔2016ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف و انسانی حقوق نے بلڈنگ کوڈ کے حوالے سے رپورٹ کئی ماہ گزرنے کے باوجود کمیٹی کے اجلاس میں پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر سی ڈی اے، این ڈی ایم اے اور پی ای سی اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو مل کر میکنزم تیار کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔

جبکہ سیکرٹری قانون و انصاف نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ آرٹیکل 182 پر اس وقت عمل کیا جاتا ہے جب ججوں کی تعداد پوری ہو اور ضرورت پڑنے پر عارضی طور پر اضافی ججوں کی تقرری عمل میں لائی جاتی ہے۔ جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف و انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر ظہیر الدین بابر کے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل 2016 ، اور سینیٹر فرحت اﷲ بابر کے توہین عدالت ترمیمی بل 2016 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ سینیٹر ظہیر الدین بابر نے تجویز دی تھی کہ آئینی ترمیمی بل کے آرٹیکل 182 کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی جس کے مطابق ایپکس کوٹ میں ضرورت کے مطابق عارضی طور پر ایڈہاک ججز کی تقرری عمل میں لائی جاسکتی ہے ۔

سینیٹر ظہیر الدین بابر کے مطابق اس آرٹیکل کی بدولت جونیئر ججوں کی پروموشن کے معاملات میں درشواری پیدا ہوتی ہے اور ریٹائرڈ ججز کی تعیناتی عمل میں لائی جاتی ہے جس پر سیکرٹری قانون و انصاف

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18/03/2016 - 21:58:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان