داعش کا زورٹونٹے لگا‘ 18ماہ میں زیر قبضہ علاقوں میں سے 22 فیصد سے ہاتھ دھونا پڑا:بین ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 18/03/2016 - 14:11:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 14:11:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:46:30 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:36:18 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:36:17 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:36:17 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:19:47 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:17:52 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:16:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:16:04 وقت اشاعت: 18/03/2016 - 13:16:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

داعش کا زورٹونٹے لگا‘ 18ماہ میں زیر قبضہ علاقوں میں سے 22 فیصد سے ہاتھ دھونا پڑا:بین القوامی ادارے کی رپورٹ

واشنگٹن(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18مارچ۔2016ء)عراق اور شام میں شدت پسند گروپ داعش پر بڑھتے ہوئے عسکری دباو¿ کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال میں اسے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سے 22 فیصد سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جس میں سے نصف نقصان اسے رواں سال کے بعد اٹھانا پڑا۔یہ بات ایک بین الاقوامی نگران گروپ "آئی ایچ ایس" کے تجزیے میں بتائی گئی ہے اور اس کے مطابق شدت پسند تیزی سے الگ تھگ ہو رہے ہیں اور انھیں پسپا ہوتے تصور کیا جا رہا ہے۔

آئی ایچ ایس نے خاص طور پر شمالی شام اور ترکی کی سرحد کے درمیان واقع علاقوں کا تذکرہ کیا جہاں امریکی زیر قیادت اتحاد اور روس کی فضائی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کرد اور سنی جنگجووں کی زمینی کارروائیوں کی بدولت شدت پسندوں کی سرحد کے آر پار نقل و حرکت مسدود ہوئی۔داعش کے زیر تسلط شام کا ایک محدود علاقہ رہ گیا ہے جہاں وہ ترکی سے غیر قانونی طور پر اپنے جنگجو اور رسد لا سکتا ہے۔

روس کی طرف سے فضائی کارروائیاں متنازع رہی ہیں کیونکہ مغرب یہ الزام عائد کرتا رہا کہ ماسکو داعش سے زیادہ اپنے اتحادی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

18/03/2016 - 13:36:17 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان