حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو علاج کیلئے بیرون ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:36:36 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:35:16 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:30:14 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:27:14 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:27:14 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:27:14 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:24:35 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:24:35 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:15:17 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:12:59 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:09:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل (ر) پرویز مشرف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، پرویز مشرف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وطن واپس آ کر اپنے خلاف مقدمات کا دفاع کریں گے

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 17 مارچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالتے ہوئے انہیں علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، پرویز مشرف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ وطن واپس آ کر اپنے خلاف مقدمات کا دفاع کریں گے، حکومت کا اس فیصلے کے حوالے سے نہ کسی سے کوئی بیک چینل رابطہ ہوا ہے نہ کسی نے کچھ کہا ہے اور نہ کوئی اثرورسوخ یا سایہ منڈلا رہا ہے، یہ خالصتاً عدالتی فیصلہ ہے، پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر پیش کرنے، محفوط راستہ دینے اور معافی دینے کا مطالبہ کرنے والے آج سیاست چمکا رہے ہیں، 5 سال حکومت کرنے والی جماعت نے ان کیخلاف کیا کارروائی کی۔

جمعرات کو پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے تاہم کچھ لوگوں نے جن کے کان اور آنکھیں بند ہیں اور انہوں نے حکومت پر ہر صورت میں تنقید کا ٹھیکہ لے رکھا ہے، اس ٹولے نے بہرصورت حکومت پر تنقید ہی کرنی ہے، خواہ حکومت کوئی بھی فیصلہ کر لے تاہم میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنی رائے بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو سیاست کا محور ٹی وی پر چلنے والے ٹکرز ہیں، آج ایک پارٹی کے لیڈروں کے ٹکرز چل رہے تھے اور بیانات آ رہے تھے حالانکہ یہی پارٹی 5 سال حکومت کرتی رہی ہے اور اسی نے پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر دیکر رخصت کیا جب یہ مشرف کو معافی دینے کی بات کر رہے تھے تب تو ان کا حق حکمرانی ختم نہیں ہوا حالانکہ تب بھی پرویز مشرف پر بینظیر بھٹو کے قتل کے الزامات تھے۔

پانچ سال ان کی حکومت رہی تب پرویز مشرف کیخلاف کیا کارروائی کی۔انہوں نے کہا کہ آج جس کے منہ میں جو الزام آ رہا ہے وہ لگا رہا ہے، کیا کسی کو احساس ہے اور یاد ہے کہ مشرف کیخلاف اس کیس کو ہم نے شروع کیا۔ اگرچہ عدالت کا فیصلہ تھا لیکن آغاز ہم نے کیا۔ پونے دو سال سے مشرف ای سی ایل پر ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ عدالت کا جو فیصلہ ہو گا وہ سب کو قابل قبول ہو گا تو کیا یہ کوئی غلط بات ہے، یہی ہونا چاہئے ایسا کہہ کر اٹارنی جنرل نے کون سا گناہ کر دیا۔

اگر ہم نے مک مکا کرنا تھا تو ہمیں عدالت میں جانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ہم پہلے ہی اجازت دے دیتے، ہم سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل میں گئے۔ سپریم کورٹ کے بعد آگے کوئی عدالت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے پرویز مشرف کو محفوط راستہ دیا، گارڈ آف آنر دیا اور معافی کا مطالبہ کیا آج وہ ٹکرز کے ذریعے سیاست چمکا رہے ہیں۔ پہلے دن سے حکومت اور وزیراعظم نوازشریف کا موقف ہے کہ پرویز مشرف سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے، وزیراعظم کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کیساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو معاف کر چکے ہیں لیکن مشرف نے جو قوم کے ساتھ کیا اس کا فیصلہ عدالت کرے گی اور یہ معاملہ عدالت میں لے جایا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک ٹی وی چینل پر کہا گیا کہ ذاتی عناد ہے۔ ریکارڈ کے بغیر جس کے منہ میں جو آتا ہے کہہ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/03/2016 - 22:27:14 :وقت اشاعت