جرمنی ،سی آئی اے کو سیکرٹ دستاویزات فراہم کرنے پر جاسوس کو آٹھ سال قید
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:25:36 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:12:59 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:12:59 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 22:11:46 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:56:57 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:54:42 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:54:41 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:11:22 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:11:22 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:59:11 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:59:11
- مزید خبریں

جرمنی ،سی آئی اے کو سیکرٹ دستاویزات فراہم کرنے پر جاسوس کو آٹھ سال قید

ملزم نے پچانوے ہزار یورو کے بدلے جرمن خفیہ ادارے کی تفصیلات فراہم کی تھیں،استغاثہ

میونخ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء)جرمن شہر میونخ کی ایک عدالت نے سابقہ جرمن انٹلیجنس ایجنٹ کوجو محض کوئی ’پْر جوش تجربہ‘ کرنا چاہتا تھا اور اسی لیے سی آئی اے اور روسی سیکرٹ سروس دونوں کے لیے جاسوسی کرتا رہا تھا، آٹھ سال کی سزائے قید سنا دی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق استغاثہ نے اس سابق جاسوس کے لیے دَس سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے ماضی کے بے داغ ریکارڈ اور اعتراف جرم کر لینے کی بناء پر ملزم کو قدرے کم سزا دی،مارکْس رائشل نامی اس جرمن جاسوس نے اس امر کا اعتراف کر لیا تھا کہ اْس نے پچانوے ہزار یورو کے بدلے میں جرمن خفیہ ادارے بی این ڈی کے ایجنٹوں کے ناموں اور پتوں سمیت ’درجنوں دستاویزات اور داخلی معلومات‘ سی آئی اے کے حوالے کیں۔

ان تقریباً دو سو دستاویزات میں سے چند ایسی بھی تھیں، جنہیں انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا کیونکہ ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ بی این ڈی دوسرے ملکوں کی جانب سے جاسوسی کو روکنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس بتیس سالہ جرمن شہری نے تین خفیہ دستاویزات روسی سیکرٹ سروس کو بھی فراہم کیں۔عدالت نے رائشل کو ملک سے غداری اور سرکاری رازوں کو افشا کرنے کے دو الزامات کے ساتھ ساتھ بدعنوانی کے پانچ الزامات کے لیے بھی قصور وار قرار دیا اور کہا کہ اْس کی سرگرمیوں نے جرمنی کی بیرونی سلامتی کو سنگین خطرے سے دوچار کیا۔

استغاثہ نے اس سابق جاسوس کے لیے دَس سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا تاہم عدالت نے اس بناء پر ملزم کو قدرے کم سزا دی کہ وہ ایک تو ماضی میں کبھی بھی سزا یافتہ نہیں رہا تھا اور دوسرے اْس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔رائشل کے مطابق سی آئی اے بھی اْسے آسٹریا کے ایک خفیہ مقام پر سال میں دس سے لے کر بیس ہزار یورو ہی دیتی تھی لیکن اس سارے سلسلے میں پائی جانے والی سنسنی اْس کے لیے زیادہ اہم تھی۔ رائشل نے جاسوس کے طور پر ’اْووے‘ کا خفیہ نام اپنا رکھا تھا اور پہلی مرتبہ اْس نے دستاویزات ڈاک کے ذریعے ’ایلیکس‘ نامی ایک امریکی ایجنٹ کو بھیجی تھیں۔ بعد ازاں وہ آسانی سے یہ معلومات ای میل یا پھر دستی طور پر فراہم کرتا رہا۔

17/03/2016 - 22:12:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان