سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قومی صحت کے اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جعلی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 21:01:10 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:59:37 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:56:56 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:54:41 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:52:42 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:52:42 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:51:17 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:51:17 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:49:38 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:49:38 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 20:49:38
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قومی صحت کے اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جعلی ادویات کی رجسٹریشن کا انکشاف

ڈی آر اے پی کی منظورشدہ 10 جعلی ادویات کے ثبوت موجود ہیں ، کمیٹی چاہے تو پیش کرنے کو تیار ہوں، سینیٹر کلثوم پروین کا چیلنج , اگر ہم ایف ڈی اے کا معیار رکھیں تو ساری کمپنیاں بند ہو جائیں گی ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان میں اصول بدل جاتے ہیں، پولیو ویکسین کبھی جعلی نہیں ہوتیں، وزیرمملکت قومی صحت کی کمیٹی کو بریفنگ , ادویات کی قیمتوں میں اضافہ غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے،کمیٹی کا ادویات کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافے پر برہمی کا اظہار،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو پرائسنگ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے اور وزارت کو قیمتوں کا درست تعین کرنے کی ہدایت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں کمیٹی رکن سینیٹر کلثوم پروین نے انکشاف کیا کہڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ( ڈی آر اے پی) نے 10ایسی جعلی ادویات رجسٹرکی ہیں جن میں لکھا ہوا فارمولہ موجود نہیں جو رجسٹر ڈکی گئی ہیں اور لیبارٹری سے ٹیسٹ شدہ ہے جس کی منظوری ڈی آر اے پی نے دی ہے،2011 میں بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پیراسٹامول کی گولیاں دیں گئیں تھیں جن میں آٹا اور نمک ملا ہوا تھا،اگلے اجلاس میں کمیٹی کو ثبوت فراہم کروں گی وزیرمملکت برائے قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ اگر ہم ایف ڈی اے کا معیار رکھیں تو ساری کمپنیاں ہی بند ہو جائیں، ایسی کمپنیاں جو رجسٹریشن کے قابل نہیں تھیں ان کو رجسٹرڈ کیا گیا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان میں اصول ہی بدل جاتے ہیں، پولیو کے قطروں والی ویکسین کبھی جعلی نہیں ہوتی، کمیٹی نے ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں قومی اور بین الاقوامی ادویہ ساز کمپنیوں نے جو اضافہ کیا ہے وہ ناجائز، غیر قانونی اور غیر منصفانہ ہے، جس کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس اضافے سے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ شاید یہ ادویہ ساز کمپنیاں کسی قانون کی پابند نہیں ہیں اور وہ زیادہ طاقتور ہیں، کمیٹی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پر زور دیا کہ وہ پرائسنگ پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے اور وزارت کو ہدایت کی کہ وہ شفاف اور منصفانہ انداز میں ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ قیمتوں کا تعین کرے تا کہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس چیئرمین ساجد طوری کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا، ادویہ ساز کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیں، عدالت سے حکم امتناعی اسی لئے لیا گیا ہے، کیس کی سماعت کے دوران بھی کمپنیاں اسی طرح پیسے بٹور رہی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ وہ کمپنیاں بند کر دیں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا حکومت دوائیاں خرید کر تقسیم کرے۔ وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ حکومت میں اتنی دوائیاں خریدنے کی سکت نہیں ہے، ایسا ہرگز ممکن نہیں، حکومت اور صوبائی حکومتیں ایک ہسپتال کی دوائیوں کا حساب کتاب نہیں رکھ سکتیں تو لاکھوں ادویات کا حساب کیسے رکھیں گی، کمیٹی اراکین نے بھی وزیرمملکت برائے صحت کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مزید معاملات خراب ہوں گے۔

کمیٹی ممبر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اس بات کو نہیں مانے گیں اور یہاں ملٹی نیشنل دوائیوں کی تعریف کی جاتی ہے اور مقامی کمپنیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ صحیح ادویات نہیں بناتیں، جسکی وجہ سے مقامی کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے وزارت کو اپنا فیصلہ عوام کے سامنے لانا ہو گا، کسی کو کم قیمت دی جاتی ہے کسی کو زیادہ اور قیمتوں کے تعین کا فارمولہ طے کرنا وزارت کی ذمہ داری ہے۔

میاں عتیق نے کہا کہ پرائسنگ پالیسی ہونے کے باوجود عمل نہیں ہورہا، آج کمپنیاں نقصان میں ہیں۔ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ ہمیں وزارت کی مدد کرنی ہے اور مافیا پارلیمنٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/03/2016 - 20:52:42 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان