سپریم کورٹ کا فیصلہ:حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی،عدالتی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:42:33 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:39:38 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:39:38 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:39:38 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:38:19 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:31:57 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:22:35 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:21:51 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:18:48 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:01:03 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:51:41
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ کا فیصلہ:حکومت نے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی،عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،مخصوص ٹولے نے حکومت کے ہر اقدام پر تنقید کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے،پچھلی حکومت نے پانچ سال گزارے لیکن مشرف کے خلاف کچھ نہیں کیا،پرویز مشرف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 6 ہفتوں میں علاج کے بعد وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے، وزیراعظم کا پہلے دن سے موٴقف تھا کہ مشرف سے ذاتی دشمنی نہیں ،مشرف نے قوم کے ساتھ جو کیا اس کا فیصلہ عدلیہ کرے گی۔وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس

اسلام آباد(اْردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17مارچ 2016ء)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپریم کورٹ کے پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویزمشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے جو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے وہی حکومت کو قبول ہے،عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،لہذا حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں علاج کی خاطر مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے،مشرف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 6 ہفتوں میں علاج کے بعد وطن واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں گے، کچھ لوگوں کے ٹولے نے حکومت کے ہر اقدام پر تنقید کرنے کا ٹھیکہ لیا ہواہے،حکومت مشرف کو باہر جانے کی اجازت دے یا نہ دے لیکن انہوں نے حکومت پر تنقید کرنی ہی ہے۔

انہوں نے آج پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جب جنرل مشرف کو گارڈ آف آنر دیا گیا تب یہ یاد نہیں آیا،پچھلی حکومت نے بے نظیر بھٹو کیس یا غداری کیس میں مشرف باہر آتے جاتے رہے تو کچھ نہیں کیا۔ہماری حکومت نے پونے دوسالوں میں ہر عدالت میں مشرف کا نام ای ای ایل سے نکالنے کیلئے رٹ دائر کی۔انہوں نے کہاکہ ہماری پرویزمشرف سے ذاتی دشمنی یا کوئی عناد نہیں تھا ہم نے آئین توڑنے پرمشرف کے خلاف ہر قانونی راستہ اختیار کیا۔

پچھلی حکومت نے پانچ سال گزارے لیکن مشرف کے خلاف کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف نے عدلیہ پر وار کیااور عدلیہ کے اختیارات کو محدود کیا۔تاہم حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں علاج کی خاطر مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں لیکن اس کا سب سے منفی کردار ٹی وی چینل پر چلنے والے ٹکرز ہے کیونکہ کچھ لوگوں نے اپنی سیاست کا محور ان ٹکرز کو سمجھ لیا ہے۔

ایک پارٹی کی جانب سے مسلسل بیانات آرہے ہیں کہ مشرف کو باہر جانے دیا تو ملک میں ایک طوفان آجائے گا۔ ایسے لوگ بیانات دینے سے پہلے عوام کو یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے اپنی 5 سالہ حکومت میں اسی مشرف کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا اور ان سے ایمنسٹی کا مطالبہ کیا حالانکہ تب بھی ان پر بینظیر کے قتل کا الزام تھا لیکن تب آپ نے ان کو آزادانہ نقل وحرکت کرنے دی مگر آج آپ بیانات دے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/03/2016 - 19:31:57 :وقت اشاعت